پاکستان کی وزارت داخلہ نے تمام صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 جولائی کے بعد غیر معیاری ویزا رکھنے والے افغان مہاجرین کی فوری حراست اور بے دخلی کا آغاز کریں۔ یہ فیصلہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
حکومت پاکستان نے غیر معیاری رہائشی ویزا رکھنے والے تمام افغان شہریوں کی حراست اور بے دخلی کے لئے ایک اہم حکم جاری کیا ہے، جو 10 جولائی کے بعد نافذ العمل ہوگا۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، یہ فیصلہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کے منصوبے پر ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے اس ہدایت کو تمام صوبوں میں سیکیورٹی اہلکاروں تک براہ راست پہنچایا ہے، خاص طور پر دارالحکومت اسلام آباد میں۔ اس اعلان نے مہاجرین کے خاندانوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کے لئے نئی حالت خاص طور پر خطرناک ہے، خصوصاً ان کمزور گروہوں کے لیے جو سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ملک میں پناہ لے چکے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم کئی خواتین کارکنان اور کمیونٹی رہنما اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ یہ فیصلہ ان کے لئے کئی نفسیاتی اور سیکیورٹی چیلنجز پیش کرتا ہے۔ مہاجرین، جو افغانستان میں سخت پابندیوں کی وجہ سے منتقل ہوئے، اب حراست اور مجبوراً واپسی کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن اسلام آباد کے عہدیداروں سے اس منصوبے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کر رہے ہیں اور کمزور افراد کو اس ہدایت سے مستثنیٰ رکھنے کی درخواست کر رہے ہیں۔
بہت سے تجزیہ کاروں اور مہاجرین کا ماننا ہے کہ یہ احکامات سال کے سب سے گرم مہینوں میں جاری کرنے کا فیصلہ مہاجر بچوں اور خواتین کی زندگی کے حالات پر منفی اثر ڈالے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین نے ہمیشہ سیاسی تنازعات اور حکومتوں کے درمیان کشیدگی کا بوجھ اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی رفتار حالیہ سالوں میں تیز ہوئی ہے، پچھلے سال سے دو ملین سے زائد افراد واپس جا چکے ہیں؛ جو کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک تیزی کا مظاہرہ ہے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی نئی ہدایت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک کے فضائی حملوں کے نتیجے میں پکتیا، پکتیکا، اور کنر کے علاقوں میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے مسلح ملیشیا کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔ افغان عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی مسائل ایک داخلی معاملہ ہیں اور انہیں افغانستان کی ناکامیوں پر الزام نہيں دیا جانا چاہیے۔ مزید برآں، اقوام متحدہ نے بیان دیا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک افغان سرزمین سے ہونے والے داخلی حملوں کے بارے میں قائل کرنے والا ثبوت فراہم نہیں کیا؛ ایسی صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان مہاجرین ایک بار پھر جاری تنازع میں سیاسی دباؤ کے اوزار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔