حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : چهارشنبه, 5 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

طالبان نے اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کیلئے مطالبات دہرائے

طالبان کے نائب وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی نمائندگی ان کی حکومت کے اہلکاروں کو دی جانی چاہئے۔


طالبان نے اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے کی اہمیت پر زور دیا

زاکر جلالی، طالبان کے نائب وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ افغانستان اور اقوام متحدہ کے درمیان تعلقات نہایت اہم ہیں اور انہیں ہر سطح پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے افغانستان میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن سے کہا کہ وہ افغانستان کی نمائندگی کو مزید مضبوط کرے۔

افغانستان کی اقوام متحدہ میں سیٹ طالبان کی نمائندگی کے بغیر

جلالی نے کہا کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن کے پاس سفارتی نمائندگی کے لئے تمام ضروری وسائل موجود ہیں؛ تاہم، اب تک طالبان کا کوئی نمائندہ اقوام متحدہ میں افغانستان کی سیٹ پر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو فرد اس وقت اس سیٹ پر ہے وہ پچھلی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتا۔

طالبان کے مطالبات اور افغان عوام کے ساتھ ناانصافی

ذبیح اللہ مجاہد، طالبان کے ترجمان نے پہلے کہا تھا کہ موجودہ صورت حال، جس میں سیٹ اب بھی سابق حکومت کے نمائندے کے زیر قبضہ ہے، افغان عوام کے ساتھ ناانصافی کی ایک شکل ہے، اور انہوں نے اس سے ان کی نمائندوں کو منتقل کرنے کی اپیل کی۔

طالبان حکومت کو درپیش بین الاقوامی چیلنجز

بین الاقوامی برادری نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے انسانی حقوق کے احترام اور جامع حکومت کے قیام جیسے مسائل سے منسلک کر دیا ہے۔ طالبان نے جواب میں منجمد اثاثوں کی رہائی اور اپنے اہلکاروں کو پابندی کی فہرست سے نکالنے جیسے مطالبات اٹھائے ہیں۔

اقوام متحدہ کی قیادت میں تبدیلیاں اور افغانستان کی سیٹ کی حیثیت

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے حال ہی میں بنگلہ دیشی سفیر ‘رباب فاطمہ’ کو افغانستان کے لیے اپنا نیا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔ طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً پانچ سال گزر چکے ہیں، لیکن افغانستان کی اقوام متحدہ میں سیٹ اب بھی سابق حکومت کے نمائندے کے زیر قبضہ ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں