سابق افغان صدر حامد کرزئی نے حالیہ ایک انٹرویو میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا، جسے انہوں نے ملک کی صورتحال بہتر بنانے کا حل قرار دیا۔
اٹلی کے اخبار “کورئرے ڈیلا سیرہ” سے گفتگو کرتے ہوئے، کرزئی نے لڑکیوں کی تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے غیر سیاسی مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کو اٹھانا افغان عوام کی ایک فوری مانگ ہے۔
کرزئی نے کہا، “میرے اور لاکھوں افغانوں کے لیے فوری ترین ہدف لڑکیوں کی تعلیم ہے۔ یہ حق بنیادی اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک یقینی بنایا جانا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو معاشرے میں کام کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
سابق صدر نے اصرار کیا کہ طالبان بھی قوم کا حصہ ہیں اور باہمی احترام بقاء کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، “طالبان کے حامی اور مخالف سب ہم وطن ہیں اور انہیں اکٹھے امن سے رہنا چاہیے۔”
کرزئی نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے پیچھے اقتصادی وجوہات کو اجاگر کیا، اور امید ظاہر کی کہ طالبان ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھیں گے جو سماجی اور سیاسی حقوق کو تسلیم کرتا ہو۔ انہوں نے ذکر کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم سے ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔
جمہوریہ کے زوال کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے، کرزئی نے امریکی غلطیوں اور امریکی افواج کے ذریعے طاقت کے بے جا استعمال کی نشاندہی کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عوامل عوام میں امریکہ اور جمہوری حکومت کے خلاف عدم اطمینان کا باعث بنے۔