افغانستان کے سابق صدر حامد کرزی نے پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر حالیہ فوجی تجاوزات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط میں بیان کی اور ان اقدامات کے علاقائی استحکام پر منفی اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔ کرزی نے افغانستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے فوری سفارتی کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔
اپنے خط میں سابق صدر نے کہا کہ حالیہ بمباریوں اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں نہ صرف بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے ہیں بلکہ افغانستان کی قومی سہولیات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اور جارحانہ رویے کا تسلسل خطے کی نازک سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور تنازع کے شعلوں کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔
کرزی نے پاکستان کی تاریخی سیاسی طرز عمل کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک چالیس سال سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سہارا لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد ان مسائل کو اپنے سیاسی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے ہمسایوں کے لیے تباہی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں، کرزی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی ادارے کی سفارتی صلاحیتوں کا استعمال کریں تاکہ افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مزید خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا پورے خطے کو تشدد اور دہشت گردی کے بدروحانی چکر سے آزاد کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ سابق صدر کا یقین ہے کہ صرف بین الاقوامی دباؤ اور فعال سفارتکاری کے ذریعے ہی موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔