بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے طالبان کے خلاف ایک آزاد تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ تازہ ترین الزامات بنیادی طور پر افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں۔
حال ہی میں، ICC کے پری ٹرائل چیمبر II کے ججوں نے طالبان سے متعلق تحقیقات کو افغانستان کے ایک بڑے معاملے سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آزاد تحقیق شروع کریں۔
یہ فیصلہ، جو جون 2023 میں پراسیکیوٹر کے دفتر میں پیش کیا گیا، طالبان کے خلاف نئے الزامات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ججوں کا کہنا تھا کہ یہ دعوے سابقہ فوجی تنازعات سے بالکل مختلف ہیں، خاص طور پر اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد۔
عدالت کی ابتدائی تحقیقات میں 2003 سے شروع ہونے والے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات شامل ہیں۔ ججوں نے وضاحت کی ہے کہ نئے الزامات بنیادی طور پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک کے رویوں سے منسلک ہیں۔
نومبر 2024 میں، چلی، کوسٹاریکا، سپین، فرانس، لکسمبرگ، اور میکسیکو سمیت چھ ممالک نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم کے الزامات کو ICC کے سامنے پیش کیا۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کے حقوق کی حمایت کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جوابدہی کے لیے کوشش کرنا ہے۔
پری ٹرائل چیمبر II نے یہ بھی اشارہ دیا کہ افغانستان کی صورت حال کے معاملے کو باقاعدہ طور پر معطل کرنے کے امکانات موجود ہیں، بشرطیکہ پراسیکیوٹرز اس معاملے میں جاری تحقیقات یا قانونی کارروائیوں کا انتظار نہ کریں۔