پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ نگار، انصار عباسی نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی شدت سے مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ناجائز اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ عباسی نے اپنے ملک کے رہنماؤں کو امریکہ کی چالاکیوں کے خلاف چوکنا رہنے کی ضرورت پر زور دیا...
عباسی نے حال ہی میں “امریکہ اور اسرائیل کی اسلام کے خلاف دشمنی” کے عنوان سے ایک تبصرے میں اسلامی جمہوریہ ایران پر حالیہ حملے کو غیر اخلاقی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت سے محروم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے بے مثال تنازعات اور اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مقصد واشنگٹن اور تل ابیب کے اسٹریٹجک مفادات کی خدمت کرنا ہے۔ ان کے مطابق، دشمنوں نے اس خطے کی استحکام کو تباہی کے قریب پہنچا دیا ہے اور اس ہنگامہ خیز صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کی تکمیل کی ہے۔
عباسی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارتی وزیراعظم کا مقبوضہ علاقوں کا دورہ حملوں کے آغاز سے پہلے کا دورہ تھا۔ انہوں نے نئی دہلی، واشنگٹن، اور تل ابیب کے درمیان اس تعاون پر تشویش کا اظہار کیا، اور اسے اسلامی دنیا کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے اس مثلثی اتحاد کو اسلام دشمن محاذ کی طاقتور شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر ہونے والے حملے صرف محدود فوجی کارروائیاں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جو مستقل عدم تحفظ پیدا کرنے اور علاقائی اسلامی حکومتوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے لیے ہیں۔
عباسی نے پاکستان کے رہنماؤں کے لیے ایک انتباہ دیتے ہوئے امریکی پالیسیوں کی عدم اعتباریت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، جب ایران کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے، تو نئی حملوں کے ذریعے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی نیت میں حقیقی ارادہ نہیں ہے۔ عباسی نے پاکستان کو یہ یاد دہانی کرائی کہ انہیں ٹرمپ کی باتوں اور وعدوں پر یقین نہیں رکھنا چاہیے، اور مشورہ دیا کہ علاقائی رہنما امریکہ کی غلط بیانیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے سیاسی تبدیلیوں سے محتاط رہیں۔