ہرات میں طالبان کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیوں نے خواتین اور خاندانوں میں حراست کے خوف کو بڑھا دیا ہے، جس سے ان کی بنیادی خدمات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
ہرار میں طالبان کے وزیر برائے دعوت و حجاب کی جانب سے خواتین کی حراست اور بڑھتی ہوئی گشتوں نے خاندانوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ بہت سی خواتین نے یہ شکایت کی ہے کہ حراست کے خوف کی وجہ سے انہیں اپنے گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے، جس سے ان کی روزمرہ کی ضروریات کی انجام دہی متاثر ہو رہی ہے۔
6 اور 7 جون 2026 کو ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو طالبان کی جانب سے مقرر کردہ حجاب کے اصولوں کی پابندی نہ کرنے پر حراست میں لیا گیا۔ اس واقعے کی تصدیق اقوام متحدہ کی افغان مشن (UNAMA) نے کی، جبکہ خواتین کو 8 جون کو رہا کر دیا گیا۔ طالبان نے ان رپورٹوں کو افواہیں قرار دیا ہے، لیکن خاندانوں کی تشویش موجودہ کشیدگی کے دوران برقرار ہے۔
خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکنوں نے انتباہ کیا ہے کہ ان پابندیوں کے جاری رہنے سے ہرات میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے سماجی خلا مزید محدود ہو جائے گا۔ اس میدان میں سرگرم کارکن ترنم سید نے زور دیا کہ موجودہ پابندیاں خواتین کی تعلیم اور ملازمت کے مواقع پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
ہرات کی خواتین صحت اور تعلیمی خدمات تک رسائی کی کمی کا شکار ہیں۔ بعض خاندان اپنی بیٹیوں کو تعلیمی کورسز میں شرکت سے روک رہے ہیں اور حراست کے خوف کی وجہ سے سماجی سرگرمیوں میں شرکت سے بھی منع کر رہے ہیں۔ یہ پابندیاں خواتین کی روزمرہ زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں اور ان کے لیے ایک غیر یقینی مستقبل تخلیق کر رہی ہیں۔
طالبان کے تحت خواتین پر عائد کردہ پابندیوں میں چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کی ممانعت شامل ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے لیے زندگی کے حالات زیادہ بگڑ گئے ہیں، جس نے ان کے لیے شدید چیلنجز پیدا کیے ہیں۔