افغان نوجوان بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اقتصادی دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس صورتحال نے ان کے سماجی اور خاندانی تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔
بے روزگاری افغان نوجوانوں کے لئے ایک ناقابل برداشت دباؤ بن چکی ہے جو ان کی روز مرہ زندگی پر نمایاں اثر ڈال رہی ہے۔ آمدن کی کمی نہ صرف ان کی اقتصادی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوئی ہے بلکہ ان کے خاندانی اور سماجی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔
یو این ویمن کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغان خواتین کی تقریباً 78 فیصد تعداد جو 18 سے 29 سال کی عمر کی ہیں، نہ تو تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور نہ ہی ملازمتیں کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں نوجوان مردوں کی بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
طالبان کے اہلکاروں نے بے روزگاری کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے باوجود، نوجوان مناسب ملازمت تلاش کرنے میں بے حوصلہ ہیں۔
نعیم، ایک نوجوان بے روزگار فرد، نے اظہار کیا کہ بے روزگاری نے اسے تنہائی اور جارحیت کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف نوجوانوں کی ذاتی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے بلکہ ان کے خاندانی تعلقات کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
جب سے طالبان کی حکمرانی دوبارہ قائم ہوئی ہے، خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جس سے اقتصادی اور سماجی مواقع میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر نوجوانوں پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔