حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 10 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغان خواتین کی ملازمتوں پر طالبان کی پابندیوں کا منفی اثر

طالبان کی واپسی کے پانچ سال بعد، افغان خواتین ملازمتوں کے نقصان اور کام کے مواقع میں کمی کا سامنا کر رہی ہیں، جو ان کی زندگیوں میں اہم تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے۔


طالبان کی حکومت میں افغان خواتین کو ملازمت کی پابندیاں

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، ہزاروں افغان خواتین، خاص طور پر وہ جو اپنے خاندانوں کی کفالت کرتی ہیں، اپنی ملازمتیں کھو چکی ہیں۔ یہ تبدیلی ان کی زندگیوں اور ان کے خاندانوں پر شدید اثرات مرتب کر رہی ہے۔

60,000 سے زائد افغان خواتین اپنی ملازمتیں کھو چکی ہیں

ہر ات کے خاتمے کے بعد، موہمدی نامی 40 سالہ خاتون نے بتایا کہ جب اس کا جمالیات کا سیلون—جو اس کے چھ بچوں کے لئے آمدنی کا واحد ذریعہ تھا—بند ہوگیا، تو اسے انتہائی اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جولائی 2023 میں، طالبان نے تمام خواتین کے سیلون پر پابندی عائد کر دی، جس کے نتیجے میں تقریباً 12,000 کاروبار بند ہوگئے۔

طالبان کے زیر اثر افغان خواتین کی اقتصادی چیلنجز

موہمدی نے اپنی کوششیں دیگر شعبوں میں کام تلاش کرنے کی کیں، لیکن طالبان کی پابندیوں نے اس کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال دی۔ انہوں نے زعفران کی تجارت میں بھی قدم رکھا، مگر انہیں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، طالبان نے مختلف بہانوں کے تحت ان کی کوششوں کو بار بار ناکام بنایا۔

انتہائی اقتصادی حالات میں ناامیدی اور آزادی کا نقصان

افغان خواتین اس صورتحال کے نفسیاتی اثرات کے بارے میں بھی بات کر رہی ہیں۔ بہت سی خواتین بے امیدی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ موہمدی کہتی ہیں، “صبح اٹھنا اور اپنے بچوں کے لئے کچھ فراہم نہ کر پانا انتہائی مشکل ہے۔”

طالبان کی پابندیاں اور افغانستان کی معیشت پر ان کے اثرات

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بار بار طالبان سے خواتین کی ملازمت پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، طالبان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خواتین کی ملازمت کے لئے سازگار ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ یہ پابندیاں جاری ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں