افغان وزارت نقل و حمل اور شہری ہوا بازی کے موسمیاتی شعبے نے ملک کے 26 صوبوں میں شدید بارش، طوفانی ہواؤں، اور اچانک سیلاب کی ممکنہ صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ اسی دوران، قدرتی آفات کے انتظامی ادارے نے حالیہ موسمی حالات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا تعداد بڑھ کر 157 تک پہنچنے کی تصدیق کی ہے جو کہ مہینے کے آغاز کے بعد سے ہیں۔
موسمیاتی شعبے نے شدید بارش اور اچانک سیلاب کی پیشگوئی کرتے ہوئے ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کی پیشگوئیوں کے مطابق، 26 صوبے شدید بارشوں، طوفانی ہواؤں، اور اچانک سیلاب کا سامنا کرنے والے ہیں۔ ان صوبوں میں فاریاب، سرے پول، بادغیس، ہرات، فراہ، غور، ہلمند، قندھار، زابل، اروزگان، دایکونڈی، بامیان، غزنی، وردک، لوگر، پکتیا، خوست، پکتیکا، ننگرہار، لغمان، پنجشیر، کاپیسا، پروان، بغلان، سمنگان، اور تخار شامل ہیں۔ ان علاقوں میں متوقع بارش کی مقدار 10 سے 40 ملی میٹر ہونے کا اندازہ ہے۔ مزید برآں، بلند و بالا اور سرد علاقوں میں برفباری کی بھی توقع ہے، جس سے آمد و رفت میں مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ان انتباہات کے ساتھ ساتھ، قدرتی آفات کے انتظامی ادارے نے حالیہ موسمی واقعات کے باعث ہونے والے جانی نقصان کے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ 26 مارچ تک، طوفانی بارش، سیلاب، اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات کی وجہ سے کم از کم 157 افراد کی جانیں چلی گئی ہیں، جبکہ مزید 229 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ مالی نقصانات بھی پہنچائے ہیں، جس میں سیکڑوں گھروں اور زرعی زمینوں کی تباہی شامل ہے۔