
پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تقریباً 140,000 افغان پناہ گزینوں کو نکالا جا چکا ہے۔ صوبائی حکام نے تصدیق کی ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کے لئے جاری کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ پنجاب سے اب تک 140,468 غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی شناخت کی جا چکی ہے اور انہیں نکالا جا چکا ہے۔ یہ آپریشن ایک قومی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد بغیر درست دستاویزات کے غیر ملکی شہریوں کا وطن واپسی کرنا ہے۔
موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان سے نکالے جانے والے افغان پناہ گزینوں کی کل تعداد تقریباً 2.68 ملین ہو چکی ہے۔ اس تعداد میں وہ افراد شامل ہیں جن کی حال ہی میں شناخت کی گئی ہے اور انہیں جاری کارروائیاں کے تحت اپنے ملک واپس بھیجا جا رہا ہے۔
اس وقت پنجاب میں 39 فعال رکھوالے مراکز موجود ہیں۔ ان مراکز میں 188 افغان پناہ گزین عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کے اندراج اور وطن واپسی کی کارروائیاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے وہ شہری جو ملک میں بغیر درست ویزوں کے مقیم ہیں، انہیں حراست میں لیا جائے گا اور رکھوالے مراکز میں منتقل کیا جائے گا۔ حکام نے عوام سے بھی کہا ہے کہ وہ غیر قانونی رہائش کے واقعات کی رپورٹ کریں۔
اندراج کے عمل کے مکمل ہونے پر، غیر قانونی افغانوں کو طورخم بارڈر پر طالبان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان میں غیر قانونی رہائش کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔