طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں غیر ملکی گروپوں کی سرگرمیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد، طالبان حکومت کے سینئر ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مسلح گروپ کا وجود نہیں ہے۔
اپنے بیان میں مجاہد نے اس رپورٹ میں ذکر کردہ گروپوں کے افغانستان سے کسی بھی طرح کے تعلقات نہ ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے اپنی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “تحریک طالبان پاکستان پاکستان سے کام کرتی ہے اور اس کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں۔”
انہوں نے داعش کی موجودگی کے بارے میں بھی بات کی، asserting کہ یہ گروہ طالبان کے ساتھ سرگرم جنگ میں مشغول ہے، اور اس لیے افغانستان میں اس کی موجودگی کے بارے میں کوئی رپورٹ درست نہیں ہے۔ مجاہد نے وضاحت کی کہ ملک میں داعش کی کارروائیوں کے بارے میں جو الزامات ہیں، وہ درست نہیں ہیں۔
مجاہد نے مزید کہا کہ مشرقی ترکستان تحریک کو افغانستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور یہ ملک کے اندر اپنا آپریشن نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ خفیہ ادارے ان غلط معلومات کی تشہیر کر رہے ہیں۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے افغانستان اور اس کے آس پاس کے خطے میں دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔