ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دورہ چین اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات، جو وائٹ ہاؤس کی طرف سے وسیع پیمانے پر میڈیا میں پروان چڑھائی گئی، کسی بھی اسٹریٹیجک یا ٹھوس نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ اس واقعے کے مکمل نتائج کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ زیادہ تر ایک سفارتی اور بصری مظہر تھا جو امریکہ میں گھریلو اقتصادی اور سیاسی دباؤ کو سنبھالنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
اس دورے سے پہلے، ٹرمپ تجارتی جنگوں کے بوجھل اخراجات، بلند قومی قرضے، اور ملک میں اقتصادی احتجاج کی وجہ سے بڑے دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے چین کی جانب سے بوئنگ اور امریکہ کی زراعت کے شعبے میں بڑے اقتصادی معاہدوں اور خریداریوں کی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، ان منصوبوں پر عملدرآمد میں رکاوٹوں اور تفصیلات کی کمی نے مالیاتی منڈیوں کی جانب سے متوقع ردعمل کو کم سے کم کر دیا، جس کے نتیجے میں تجزیہ کاروں نے اس سفر کو صرف ایک عارضی میڈیا کامیابی کے طور پر دیکھا۔
اسی دوران، واشنگٹن کے ایران پر دباؤ بڑھانے اور تہران کے تیل کی خریداریوں کو کم کرنے کے لیے چین کی اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھانے کی کوششیں بے اثر ثابت ہوئیں۔ چین نے امریکی مطالبات کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کی قربانی دینے سے انکار کر دیا، اور یہ معاملہ صرف علاقائی استحکام کے بارے میں عمومی بیانات کے ساتھ ختم ہوا۔
ٹیکنالوجی کے مقابلے میں، اور ہواوے جیسے کمپنیوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بھی، ٹرمپ کو کوئی اہم رعایت حاصل نہ ہو سکی جبکہ بیجنگ نے اپنی ٹیکنالوجی کی آزادی کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کیا۔
تائیوان کے معاملے پر چینی حکومت نے دوبارہ یقین دہانی کروائی کہ یہ مسئلہ ان کے لیے ایک سرخ لکیر ہے، اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی عدم برداشت کو اجاگر کیا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی پوزیشنیں اس کشیدگی کے مقام پر صلح نہیں کر سکیں۔
آخر میں، چینی حکومت نے اس دورے کی رسمی پذیرائی اور وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج کے ذریعے خود کو امریکہ کے برابر طاقت کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کثیر قطبی نظام کے تصور کو بھی فروغ دیا، جبکہ ٹرمپ غیر واضح وعدوں کے ساتھ واشنگٹن واپس لوٹے، لیکن بڑے بین الاقوامی مسائل پر کوئی اہم پیشرفت نہ ہوئی۔