طالبان کے ترجمان نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے بارے میں حالیہ مشترکہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی امارت کا موقف ہمیشہ غیر ملکی حکومتوں کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان خصمانہ کاروائیوں سے گریز کے معاہدے کی تصدیق کی، جسے تجزیہ کار علاقائی طاقت کے توازن کا ایک حصہ سمجھتے ہیں...
اسلامی امارت طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک بیان میں اعلان کیا کہ طالبان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں جو بیان جاری کیا گیا وہ دونوں فریقین کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ نہیں تھا۔ مجاہد نے زور دیا کہ اس بیان میں پاکستان میں حکومت مخالف گروہوں کی طرف سے حملوں کی حمایت نہ کرنے کا دعویٰ اسلامی امارت کے مستقل اور مستقل موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور نہ ہی کسی بھی فریق کے خلاف حملوں کی حمایت کریں گے۔”
اسی صبح مجاہد نے قطر کے شہر دوحہ میں اسلامی امارت افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے اختتام کی بھی اطلاع دی۔ ان کے مطابق، اس ملاقات کا اختتام ایک جامع اور معنی خیز جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی خصمانہ کاروائی سے گریز کرنے اور پاکستانی حکومت کے خلاف کام کرنے والے گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا عہد کیا۔ دریں اثنا، کچھ علاقائی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسلام آباد کی حالیہ حرکتیں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی آمادگی امریکی اثر و رسوخ میں اضافے کا مقابلہ کرنے کے مقصد کے تحت ہو سکتی ہیں۔ یہ ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان طالبان کے ساتھ رابطے کے ذرائع کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کابل کی واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی کی روک تھام کی جا سکے اور بگرام فوجی اڈے کی ممکنہ بحالی کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے؛ جس اقدام کو وہ پاکستان کی طرف سے طالبان پر نئے سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھتے ہیں۔