حصہ : ویڈیو -+

زمان اشاعت : جمعه, 11 سپتامبر , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان کی خارجہ پالیسی میں نیا موڑ: مشرقی طاقتوں کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی کوششوں کے باوجود مشرقی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی، افغانستان ایک نئے راستے کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔ اس کی روس اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی تعاون ایک تبدیلی کی علامت ہے جو علاقائی سیاسی منظرنامے کو ڈھال سکتی ہے…

افغان سیاست میں تبدیلیاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان

حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد، کابل میں سیاسی تبدیلی کی علامات ابھر رہی ہیں کیونکہ یہ اپنے مغربی نقطہ نظر پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ دارالحکومت میں عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان ممکنہ طور پر اپنی جغرافیائی تعلقات میں نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ افغان عوام کا ردعمل محض عارضی جذبات سے آگے بڑھتا ہے؛ بلکہ یہ بیرونی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے قومی شناخت کی دوبارہ تعریف کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ پاکستانی حملے کابل کی فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں چند ماہ سے جاری ایک عمل کے لیے محرک کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

جبکہ امریکہ اور اس کے مغربی شراکت دار مشرقی طاقتوں کے اثر و رسوخ کی حد بندی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، افغانستان ایک نئے راستے کی طرف گامزن ہے۔ روس کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات، چین کے ساتھ اقتصادی تعاون میں اضافہ اور مشرق کی طرف واضح جھکاؤ نے کابل کی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر کو نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی حملہ بظاہر ایک محدود فوجی کارروائی کی طرح لگتا ہے، تاہم اس کے پس پردہ اہم جغرافیائی مضمرات موجود ہیں۔ یہ تبدیلی ممکنہ طور پر افغانستان کی سمت کو مغرب سے مشرق کے رخ پر موڑ سکتی ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں