حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 31 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

طالبان کی نئی حکمت عملی: ایغور جنگجو اور انصار اللہ کی بھرتی کے ذریعے خطے میں بے چینی

رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان نے بدخشان اور تخار صوبوں میں اپنی سرحدی فورسز میں تربیت یافتہ ایغور جنگجوؤں اور انصار اللہ کے ارکان کا بھرتی کیا ہے، جس کا مقصد وسطی ایشیائی ممالک اور چین پر دباؤ ڈالنا ہے۔ یہ پیشرفت افغانستان کے شمال مشرقی سرحدوں کو دہشت گرد گروپ کی سرگرمیوں کے لئے ایک ہاٹ اسپاٹ میں تبدیل کر چکی ہے۔


ماہرین متنبہ کرتے ہیں: طالبان کی سرحدی ساخت چین اور وسطی ایشیا کے خلاف پروکسی آپریشنز کو سہولت فراہم کرتی ہے

انٹیلی جنس ذرائع اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی شمال مشرقی سرحدیں دہشت گرد گروپ کی سرگرمیوں کا نیا مرکز بن چکی ہیں، جو وسطی ایشیا اور چین کے لئے ایک منظم خطرہ بن رہی ہیں۔

علاقائی دباؤ کے لئے شام سے جنگجوؤں کی بھرتی

رپورٹس کے مطابق، طالبان بدخشان اور تخار صوبوں میں اپنی سرحدی فورسز میں تربیت یافتہ ایغور جنگجوؤں اور انصار اللہ کے ارکان کی بھرتی کر رہے ہیں—وہ افراد جو حال ہی میں شام سے جنگ کے میدان سے واپس لوٹے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد وسطی ایشیائی ممالک اور چین پر دباؤ ڈالنا بتایا جاتا ہے۔
اہم مقامات تفویض کیے گئے: طالبان کے انٹیلی جنس اور دفاعی وزارتوں کے کم از کم دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مخصوص سرحدی مقامات، خاص طور پر بدخشان کے اضلاع کف، شکی، نسی، مئی یمی، خواہان، شغنان، وادی وکھان اور اشکاشم، ایغور اور انصار اللہ کے ارکان کے حوالے کیے گئے ہیں۔ یہ علاقے نہ صرف کنٹرول پوسٹس بن گئے ہیں بلکہ ان دو گروہوں کے لئے حربی مراکز بھی ہیں۔
تاجیکستان پر منظم حملے: ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے تاجیکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے اکیلے واقعات نہیں ہیں بلکہ انصار اللہ اور طالبان کی سرحدی فورسز کے درمیان ایک مربوط کوشش کا حصہ ہیں۔
جدید ہتھیار: پچھلے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ شام سے واپس آنے والے ایغور جنگجو جدید ہتھیاروں سے واقف ہیں اور ان کے پاس ڈرون تکنالوجی کے استعمال کا عملی تجربہ بھی ہے، جو کہ ریکونیسینس اور حملوں کے لئے ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان غیر مستقیم طور پر چین اور تاجیکستان کو ایک پیغام بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں: اگر وہ تعاون کرنے سے انکار کریں تو طالبان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ ان ممالک کے علاقائی مفادات پر حملہ کر سکتے ہیں۔

چینی شہریوں کے خلاف طالبان اور بھارت کے مشترکہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزامات

ایک اور رپورٹ کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چینی شہریوں کو ایک منظم اور مربوط کارروائی کے نتیجے میں قتل کا بڑا خطرہ لاحق ہے۔ اس کارروائی میں طالبان کی انٹیلی جنس، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور ترکستان اسلامی پارٹی، جو بھارتی انٹیلی جنس کی حمایت حاصل کرتی ہیں، اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
نئی دہلی سے قتل کا حکم: یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ افغان-تاجیک سرحد پر چینی افراد پر حالیہ دہشت گردانہ حملہ بھارتی انٹیلی جنس کے احکامات پر عمل میں لایا گیا، جس میں طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کی براہ راست شمولیت تھی، اور تمام سامان ہندوستان کی جانب سے فراہم کیا گیا۔
خفیہ ملاقاتیں: رپورٹس کے مطابق، 2025 کے دوران بھارتی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے افغانستان کے متعدد دورے کیے، جن میں نہ صرف طالبان کے اہلکاروں بلکہ ٹی ٹی پی، بلوچ آزادی کی فوج، اور متعدد القاعدہ کمانڈروں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
جدید ڈرونز کی فراہمی: بھارتی انٹیلی جنس نے حال ہی میں افغانستان میں طالبان دہشت گردوں کو کئی جدید ڈرونز فراہم کیے ہیں، جن میں سے کچھ ڈرون ٹی ٹی پی، بلوچ آزادی کی فوج، اور ترکستان اسلامی پارٹی جیسے گروہوں کے حوالے کئے گئے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، افغان-تاجیک سرحد کے قریب چینی شہریوں پر حالیہ حملہ تکنیکی طور پر منظم کارروائی تھی، جو ٹی ٹی پی اور ترکستان اسلامی پارٹی کے ذریعے مشترکہ طور پر کی گئی، جس میں طالبان کی 561 انٹیلی جنس یونٹ کی براہ راست شمولیت تھی۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں