حصہ : بین الاقوامی -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 31 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کی

ریاستہائے متحدہ کے کئی معروف ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دھمکیوں کی مذمت کی ہے، جسے وہ جنگی جرم قرار دے رہے ہیں، اور عالمی توانائی منڈی کے لیے تباہ کن نتائج کی وارننگ دی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ جاری کشیدگی اور ہارموز کی آبنوشی کی بندش کی صورت میں تیل کی قیمتیں 170 سے 200 ڈالر فی بیرل کی تاریخی بلند سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔


حالیہ بیانات کے ردعمل اور فوجی نتائج

ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس نے ریاستہائے متحدہ کے ڈیموکریٹ سینیٹرز کی جانب سے سخت ردعمل پیدا کیا ہے۔ ان سینئر عہدے داروں نے ایسے اقدامات کو نہ صرف علاقائی کشیدگی کے بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا ہے بلکہ اس کو جنگی جرم کی ایک واضح مثال بھی سمجھا ہے، اور اس غیر ذمہ دارانہ رویے کو فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

شہری بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات اور امریکی افواج کی سیکیورٹی

ماس کے سینٹر ایڈورڈ مارکی نے ٹرمپ کی حالیہ زبان پر شدید تنقید کی، زور دیتے ہوئے کہا کہ افراط زر اور جنگی جرائم کے ارتکاب کی دھمکیاں ہارموز کی آبنوشی میں حل کی طرف نہیں لے جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ سفارتکاری اور مکالمہ منتخب کرنا چاہیے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے اور امریکی فوجیوں کی جانوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ دریں اثنا، کنیکٹیکٹ کے سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کے ممکنہ منصوبوں کو ایک کھلا جنگی جرم قرار دیتے ہوئے ریپبلکن رہنماؤں سے ان کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف مداخلت کی اپیل کی۔

اقتصادی بحران اور 200 ڈالر کا تیل

سیاست کی کشیدگی کے ساتھ، ماہرین اقتصادیات توانائی کی منڈی کی استحکام میں زوال کی وارننگ دے رہے ہیں۔ موجودہ تجزیوں کے مطابق، اگر ٹرمپ اپنی جارحانہ پالیسیوں پر قائم رہے اور ہارموز کی آبنوشی بند رہی—جو کہ عالمی معیشت کی اہم شریان ہے— تو تیل کی قیمتیں جلد ہی 170 ڈالر کی حد عبور کر سکتی ہیں۔ قبل ازیں، میکوری فنانشل گروپ نے نوٹ کیا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی اور یہ حکمت عملی کا راستہ بند رہا، تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل کے تاریخی ریکارڈ کو عبور کرنا ممکن ہے۔ یہ اقتصادی بحران امریکہ اور دیگر ممالک میں مہنگائی میں شدت کا باعث بن سکتا ہے، جو کہ فوجی آپشنز پر بھروسہ کرنے کی بجائے سیاسی حل کی طرف مائل ہونے کی صورت میں ہوگا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں