امریکہ کے کئی سرکردہ ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حالیہ دھمکیوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کے عالمی توانائی مارکیٹ پر ممکنہ تباہ کن اثرات سے خبردار کیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگیاں جاری رہیں اور ہارموز کا تنگ راستہ بند رہے تو تیل کی قیمتیں 170 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جو ایرانی اہم انفراسٹرکچر کے ممکنہ نشانہ بنانے سے متعلق ہیں، نے امریکہ کے ڈیموکریٹ سینیٹرز میں شدید مذمت کا باعث بنے ہیں۔ ان اعلیٰ حکام نے ایسے اقدامات کو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھا ہے بلکہ یہ جنگی جرائم کی واضح مثال بھی قرار دیا ہے، اور اس بے دھڑک رویے کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی ہے۔ میساچوٹس کے سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے ٹرمپ کے حالیہ طرز عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بے قابو دھمکیاں اور جنگی جرائم commit کرنے کے وعدے ہارموز کے تنگ راستے کو نہیں کھولیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ سفارت کاری اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے اور امریکی فوجی اہلکاروں کی زندگیاں محفوظ رکھی جا سکیں۔ اسی طرح، کنیکٹیکٹ کے سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کے ممکنہ منصوبوں کو کھلا جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن رہنماؤں کو ان کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف مداخلت کرنی چاہیے۔
مشی گن کی سینیٹر ایلیسا سلاٹکن نے بھی سویلین انفراسٹرکچر، جیسے پلوں اور بجلی گھروں، کی تباہی کو نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ شہریوں اور سویلین سہولیات کو نشانہ بنانا خطے میں تعینات امریکی افواج کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے اور امریکہ کے لیے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔
سیاسی کشیدگی کے درمیان، اقتصادی ماہرین توانائی مارکیٹ کی استحکام کے ممکنہ زوال کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ موجودہ تجزیے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر ٹرمپ اپنی جارحانہ پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے اور ہارموز کا تنگ راستہ بند رہتا ہے، تو تیل کی قیمتیں جلد ہی 170 ڈالر کی حد عبور کر سکتی ہیں۔ اس سے پہلے، میکوارے مالی گروپ نے بتایا تھا کہ اگر یہ تنازع جاری رہتا ہے اور یہ اسٹریٹیجک گزرگاہ بند رہتی ہے تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔ یہ اقتصادی بحران امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے، جو فوجی اختیارات پر سیاسی حل کی ضد کی بنیاد پر ناپید ہو رہا ہے۔