سابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ایک افسر نے انکشاف کیا ہے کہ جیفری ایپسٹائن موساد کے لیے کام کر رہا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایپسٹائن کے ذریعے جمع کیے گئے دستاویزات اور ریکارڈز کا استعمال ڈونلڈ ٹرمپ سے بڑے اسٹریٹجک معاملات میں دباؤ ڈالنے کے لیے کر رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے معاملے میں۔
جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان عسکری کشیدگی بڑھ رہی ہے، ایک سابق اسرائیلی خفیہ اہلکار کے بیانات ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان پس پردہ تعلقات کی نئی پرتیں افشا کرتے ہیں۔ سابق موساد افسر کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹائن کا نیٹ ورک محض ذاتی کاروبار نہیں تھا، بلکہ یہ ایک پیچیدہ انٹیلی جنس منصوبہ تھا جس کی نگرانی موساد نے برطانوی انٹیلی جنس (MI6) کے مکمل تعاون سے کی۔
اس انکشاف کے مطابق، جیفری ایپسٹائن کا بنیادی کردار عالمی طاقتور شخصیات کی غیر اخلاقی رویوں کے ثبوت جمع کرنا تھا۔ اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ موساد کے پاس دنیا بھر کے اعلیٰ سیاستدانوں، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ویڈیوز اور دستاویزات کا ایک بڑی انٹیلی جنس آرکائیو موجود ہے۔ مبینہ طور پر، نیتن یاہو ان مواد کو سیاسی قوت کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف سخت پالیسیوں کو اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
یہ سیکیورٹی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا اسرائیل کے عسکری موقف کے لیے غیر مشروط حمایت اور امریکا کا براہ راست ایران کے ساتھ تنازعے میں شامل ہونا روایتی سفارتی معاہدوں سے آگے کی بات ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایسی پوزیشن میں رکھ دیا ہے جہاں اس کے پاس تل ابیب کی درخواستوں پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، بصورت دیگر ایپسٹائن کیس سے متعلق دستاویزات منظر عام پر لانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ کیوں ٹرمپ ایک ایسے جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے پر مصر ہیں جس کو امریکا میں کافی اندرونی مخالفت کا سامنا ہے۔