عالمی غذائی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں بھوک کا بحران ایک اہم مرحلے پر پہنچ چکا ہے اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے لاکھوں بچوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ اس تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سردیوں کے آنے سے پہلے فوری امداد بڑھائیں...
عالمی غذائی پروگرام، جو کہ ایک اقوام متحدہ کی ایجنسی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں بھوک کی صورت حال تیزی سے خراب ہوتی جا رہی ہے اور دن بدن کافی خوراک سے محروم خاندانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق، خاص طور پر بچوں کے لیے غذائی اجزاء کی کمی ملک کی عوامی صحت کے لیے سنجیدہ خطرہ بن رہی ہے۔
عالمی غذائی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی بجٹ میں بڑی کٹوتیوں کی وجہ سے اس تنظیم کو صرف ضرورت مند خاندانوں کا ایک چھوٹا حصہ مہیا کرنے کی صلاحیت ملی ہے۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے جب سردیوں کے قریب آنے کے ساتھ ہی سرد اور پہاڑی علاقوں میں غذائی کمی اور بھوک کا خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔
اس تنظیم نے زور دیا ہے کہ کافی اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اسے مالی مشکلات کی وجہ سے قربان نہیں کیا جانا چاہئے۔ تاہم، لاکھوں افغان شہری، خاص طور پر دور دراز اور محروم علاقوں میں، اس بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔
اسلامی امارت کے عروج کے بعد آنے والا معاشی بحران اور غیر ملکی امداد کے ایک بڑے حصے کی کٹوتی نے امدادی تنظیموں کے لیے حالات کو مشکل بنا دیا ہے۔ کئی بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ مالی اور بینکنگ پابندیاں افغانستان میں امداد بھیجنے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
عالمی غذائی پروگرام نے عطیہ دینے والے ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فوری اور مؤثر مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ سردی کی موجودگی کے سبب حالات مزید سنگین نہ ہوں۔ اس تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی فراہمی میں تاخیر افغان بچوں اور خاندانوں کی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔
فی الحال، اقوام متحدہ کے اندازے بتاتے ہیں کہ افغانستان کی آبادی کا نصف سے زیادہ خوراک کی عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ملک کو دو دہائیوں میں سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔