افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں، خاص طور پر طورخم، بند ہیں اور انہیں دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
افغانستان-پاکستان مشترکہ تجارت کے چیمبر کے صدر خانجان الکوزئی نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں، خاص کر طورخم، ابھی بھی آمد و رفت اور تجارت کے لیے بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ پاکستانی حکام نے ان گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں کی ہیں، لیکن یہ اقدامات ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا نے پہلے اسلام آباد کے سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے فیصلے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم، اس حوالے سے پاکستانی حکام کی جانب سے کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا۔
الکوزئی نے زور دیا کہ افغانستان کے نجی شعبے کو بھی پاکستان کے ساتھ تجارتی روٹس کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے اور یہ حکومت کے اس موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل کوششوں کے باوجود، سرحدیں ابھی تک معمول کے حالات میں نہیں آئی ہیں۔
افغانستان-پاکستان کی گزرگاہوں کی بندش، خاص طور پر حالیہ تنازعات کے بعد، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ جنگ بندی کے باوجود کاروباری سرگرمیاں ابھی تک معمول پر نہیں آئی ہیں۔
جبکہ افغان نجی شعبہ تجارتی روٹس کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دے رہا ہے، وہ پاکستانی روٹس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں ہے۔