حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 29 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان میں آٹھ ملین افغانوں کی واپسی: اقتصادی اور سماجی چیلنجز میں اضافہ

طالبان حکومت کے ایڈمنسٹریٹو ڈپٹی نے اعلان کیا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں آٹھ ملین سے زیادہ افغان ہمسایہ ممالک سے واپس آ چکے ہیں، جو اس خطے میں اقتصادی چیلنجز کو نمایاں طور پر بڑھا رہا ہے۔


آٹھ ملین افغان واپسی کا اقتصادی اثر

عبدالسلام حنفی، طالبان کے وزیر اعظم کے ایڈمنسٹریٹو ڈپٹی، نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی یاسمین پروڈیسیموز کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ پچھلے پانچ سالوں میں آٹھ ملین سے زیادہ افغان ہمسایہ ممالک سے واپس آئے ہیں۔ اس واپسی کی لہر ملک میں اقتصادی اور انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

حنفی نے امدادی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور واپس آنے والے افغانوں کی حمایت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض علاقوں میں طویل تنازعات کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں، لیکن جنگ کے باقی اثرات لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثر ڈالتے رہتے ہیں۔

یاسمین پروڈیسیموز نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی جاری انسانی کوششوں کا ذکر کیا، جو پچھلے 40 سال سے کمزور گروہوں کی مدد کر رہی ہے۔ لاکھوں افغانوں کی واپسی نے ملک میں رہنے کی جگہ، ملازمت، اور بنیادی خدمات کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔

موجودہ اقتصادی مواقع کی محدودیت اور کئی لوگوں کا انسانی امداد پر انحصار اس رجعت پذیر آبادی کی دوبارہ شمولیت کے لیے بڑے چیلنجات پیش کرتے ہیں۔ مزید برآں، قدرتی آفات، جیسے زلزلے، کچھ خاندانوں کو درپیش مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، جس سے متاثرہ آبادیوں کے لیے رہائش اور مدد کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لاکھوں افغانوں کی واپسی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی فوری ضرورت افغانستان کے لیے اہم اقتصادی اور سماجی چیلنجات پیش کرتی ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں