طالبان حکومت کی وزارت مہاجرین اور واپسی نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جنوبی اٹلی میں تقریباً دو ماہ قبل ایک افسوسناک آتشزدگی میں ہلاک ہونے والے تین افغان شہریوں کی لاشیں واپس لائی جائیں گی۔ اس معاملے میں اٹلی کی پولیس نے پہلے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔
وزارت نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی کہ تین افغان شہریوں کی باقیات 5 اور 6 اسد (اواخر جولائی) کو کابل منتقل کی گئیں۔
وزارت کے مطابق، یہ متاثرین بلخ، پرون، اور ننگرہار کے صوبوں سے تعلق رکھتے تھے۔
تقریباً دو ماہ قبل، یہ تین افغان شہری اور ایک پاکستانی شہری جنوبی اٹلی میں ایک گاڑی کی آتشزدگی میں افسوسناک طور پر اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔
تحقیقات کی شروعات کے بعد، اٹلی کی پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں دو پاکستانی نگرانوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی نے اس واقعے کو ایک سنگین جرم قرار دیا، اور تمام ذمہ داروں کی شناخت اور سزا کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا، اور مطالبہ کیا کہ شامل افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
جبکہ متاثرین کی لاشیں افغانستان واپس آچکی ہیں، اٹلی میں اس معاملے کی عدالتی کارروائی جاری ہے۔ اٹالی حکام نے پہلے ہی بتایا ہے کہ تحقیقات جاری رہیں گی تاکہ واقعے کے حالات کو واضح کیا جا سکے اور تمام ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔