خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی جانب سے پاکستانی پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور جبر کے ذریعے ملک بدری میں اضافہ کی شکایت کی جا رہی ہے، جو ان کی زندگیوں پر نمایاں اثر ڈال رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے متعدد افغان مہاجرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستانی پولیس نے ان کی گرفتاری اور جبر کے ذریعے ملک بدری کے عمل میں اضافہ کر دیا ہے۔ بورڈ مارکیٹ، جو شہر میں افغان باشندوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے، اس تشویشناک صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔
بورڈ مارکیٹ میں افغان دکانداروں نے بتایا کہ گرفتاری اور تعاقب ہونے کا خوف ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ بعض کو حراست کے خوف کی وجہ سے اپنی دکانیں بند کرنی پڑی ہیں۔
اس علاقے کے افغان مہاجرین اپنی معاشی صورتحال سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر چیک پوسٹ پر انہیں گرفتاری اور پیسوں کے لیے لوٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی مشترکہ کونسل نے پاکستانی حکام اور اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی مشکلات پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی چیلنجز اور گرفتاری کا خوف ان کی روزی روٹی پر شدید اثر ڈال رہے ہیں۔
کچھ افغان مہاجرین گرفتاری کے خوف کی وجہ سے صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم رہ گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی صحت اور بہبود کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش پیدا ہوئی ہے۔