پاکستان میں مقیم 87 افغان طلباء نے طالبان کے سفارت خانے سے مدد طلب کی ہے تاکہ وہ اپنے طلباء کے ویزے کی مدت میں توسیع کر سکیں۔ اس درخواست کا جائزہ اس وقت اسلام آباد کی سپریم کورٹ لے رہی ہے۔
پاکستان میں طلباء ویزے پر مقیم افغان طلباء نے طالبان کے سفارت خانے سے حمایت حاصل کرنے کے لئے اسلام آباد کی سپریم کورٹ سے مدد مانگی ہے تاکہ وہ اپنے ویزے کی حیثیت کو بڑھا سکیں۔
پاکستانی اخبار Dawn کی رپورٹ کے مطابق، جج خدیم حسین سومرو نے یہ بات واضح کی ہے کہ افغان سفارت خانے کو اس معاملے میں پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ یہ 87 طلباء 2023 میں ایک سالہ ویزوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
یہ طلباء اب اپنے مطالعے کے اجازت نامے میں توسیع اور پاکستان میں اپنی رہائشی حیثیت برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ دریں اثناء، افغانستان کی طالبان حکومت نے اس مسئلے پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں، پاکستان اور ایران دونوں نے افغان مہاجرین کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق، پچھلے مہینے میں ان دونوں ممالک سے 100,000 سے زائد افغانوں کو افغانستان واپس بھیجا گیا ہے۔ یہ صورتحال افغان طلباء کے ساتھ ساتھ دوسرے مہاجرین پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔