حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 29 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

طالبان کا پاکستان پر مخالفین کی حمایت کا الزام، بدخشان کی سیکیورٹی میں تشویش

نقشه پاکستان در کنار افراد مسلح

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان کے پولیس کمانڈر عبدالباسط محظری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان چترال میں طالبان کے مخالفین کے لیے پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال بدخشان کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔


طالبان نے پاکستان پر مخالفین کی پشت پناہی کا الزام لگایا

عبدالباسط محظری نے کہا کہ پاکستان خیبر پختونخوا کے چترال خطے میں طالبان کے مسلح مخالفین کے لیے پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے۔ ایک میڈیا انٹرویو میں انہوں نے یہ بات واضح کی کہ بدخشان افغانستان کا وہ واحد شمالی صوبہ ہے جو پاکستان کے ساتھ سرحد شیئر کرتا ہے، جس کی وجہ سے شمالی صوبوں کے مخالفین چترال میں جمع ہو رہے ہیں۔

محظری نے مزید کہا، “شمالی صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسلح مخالفین جو ہماری حکومت کے ساتھ تنازع میں ہیں، سب چترال میں جمع ہو چکے ہیں۔ یہ بات سب کے لیے واضح ہے کہ وہاں ان کے لیے تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ یہ مخالفین شاہ سلیم پاس کے ذریعے بدخشان میں داخل ہو سکتے ہیں، جو اس صوبے اور شمال مشرقی افغانستان کے دیگر علاقوں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

طالبان کا پاکستان کی حمایت پر رد عمل

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلے یہ بات واضح کی تھی کہ پاکستان کئی طالبان مخالفین کی میزبانی کرتا ہے اور ان کے لیے پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کے قیام پر بات چیت ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بدخشان کے ضلع ذی بک میں ایک حملے میں پاکستانی فورسز مسلح مخالفین کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں، جسے پاکستانی وزارت اطلاعات نے سختی سے مسترد کیا۔

بدخشان میں سیکیورٹی پر طالبان کا اعتماد

اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں عبدالباسط محظری نے ذکر کیا کہ “جماکھ خان فاتح”، جو طالبان کے سابق نائب گورنر زابل تھے، کے ساتھ پانچ ساتھیوں کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے بعد تمام مسلح افراد کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بدخشان میں موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور وہاں کوئی مسائل نہیں ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں