طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایک ہی دن میں 2,346 افغان مہاجرین پاکستان سے واپس آئے ہیں، جبکہ ایران سے قریب 500 افراد بھی واپس لوٹے ہیں۔ یہ خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب بین الاقوامی تنظیمیں افغان مہاجرین کی صورتحال کے حوالے سے مسلسل خدشات کااظہار کر رہی ہیں۔
حال ہی میں طالبان حکومت نے یہ رپورٹ دی ہے کہ کل 2,346 افغان مہاجرین پاکستان سے واپس آئے ہیں۔ طالبان اہلکاروں کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر افراد نے تنگیہ بارڈر کے راستے افغانستان میں داخلہ لیا۔
یہ اعلان پاکستان کے غیر قانونی افغان مہاجرین کے لئے ملک بدری کے نئے مرحلے کے آغاز کے بعد آیا ہے، جو کہ 10 جولائی سے شروع ہوا۔ حالیہ چند ہفتوں میں دسیوں ہزار افغان مہاجرین کو افغانستان بھیجا گیا ہے، اور رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان مہاجرین پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پاکستان میں موجود کچھ افغان مہاجرین نے میڈیا کے ساتھ اپنی خوفناک کہانیاں شیئر کی ہیں، جن میں گرفتاری، نوکری کا نقصان، اور زبردستی کی ملک بدری کا خوف شامل ہے۔ مزید برآں، ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ‘ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز’ (MSF) نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جنہیں حراست اور نکالے جانے کے خوف کا سامنا ہے۔ یہ تنظیم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ملک بدری کا عمل بند کیا جائے اور ان افراد کی مدد کی جائے۔