افغانستان کے ماہرین اور سابقہ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات بنیادی طور پر انٹیلیجنس اور اقتصادی مفادات کی ضروریات کے باعث ہیں۔
اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، اس گروہ کو ابتدا میں بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، انہوں نے آہستہ آہستہ کئی ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی اور سفارتی تعلقات کو وسعت دی ہے۔ ماہرین اور سابقہ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعلقات بنیادی طور پر ان ممالک کی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ضروریات کے مطابق بنائے گئے ہیں۔
شکریہ بارک زئی، جو کہ ناروے میں افغانستان کی سابقہ سفیر ہیں، نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بعض ممالک کا طالبان کے ساتھ رابطہ ان کی ضروریات سے پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعامل افغانستان کی صورتحال پر مثبت اثر نہیں ڈالے ہیں۔