حصہ : بین الاقوامی -+

زمان اشاعت : جمعه, 28 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

ٹرمپ کی افغانستان سے فوجی واپسی پر شدید تنقید، ایبی گیٹ حملے کی یاد دلائی

نظامیان در حال سوار شدن به طیاره نظامی ترابری

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کی صدارت کے دوران افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کو مہلک قرار دیا ہے، جس میں ایبی گیٹ واقعہ کا ذکر کیا ہے۔


ٹرمپ کی افغانستان سے امریکی واپسی کی مذمت

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے مہلک ایبی گیٹ حملے کی پانچویں برسی پر افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ حملہ 26 اگست 2021 کو ہوا تھا جس کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 170 افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔
ٹرمپ نے ایک بیان میں اس حملے کو “انتہائی مہلک” امریکی واپسی کے نتیجے میں قرار دیا، اور کہا کہ اس کی وجہ سے فوجی کمزور ہوگئے تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو امریکی تاریخ کے بڑے سانحات میں سے ایک قرار دیا اور بائیڈن اور ڈیموکریٹس کی “مکمل نااہلی” کا الزام لگایا۔

ایبی گیٹ حملے کی تفصیلات اور اس کے اثرات

ایبی گیٹ حملہ اس وقت ہوا جب امریکی شہریوں کو افغانستان سے evacuated کیا جا رہا تھا۔ ایک ISIS-K خودکش بمبار نے کابل ائیرپورٹ کے ایک داخلی مقام پر لوگوں کے درمیان دھماکہ خیز مواد پھونک دیا۔ پینٹاگون کی ابتدائی تحقیقات نے یہ ظاہر کیا کہ شہریوں پر امریکی افواج کی جانب سے فائرنگ کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
تاہم، CNN نے رپورٹ کیا کہ کئی فوجی اہلکاروں اور مقامی گواہوں کی نئی ویڈیوز اور بیانات سے یہ ظاہر ہوا کہ شہری ہلاکتوں میں سے کچھ کا سبب امریکی افواج کی طرف سے کی جانے والی وسیع اور براہ راست فائرنگ تھی۔ نیٹ ورک نے بتایا کہ دھماکے کے بعد کئی راؤنڈ فائر کیے گئے تھے، اور افغان ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ انہوں نے زخمیوں کے جسموں سے متعدد گولیاں نکالی ہیں۔

نتیجہ اور اثرات

یہ بیانات اور تحقیقات اس وقت سامنے آ رہی ہیں جب ٹرمپ اور دیگر نے بائیڈن انتظامیہ پر بڑھتی ہوئی تنقید کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ امریکی افواج کی نااہل اور ناقص انتظام کردہ واپسی نے ان انسانی المیوں کا باعث بنی ہے۔ ایبی گیٹ حملہ افغانستان میں امریکی فوجی تاریخ کے سیاہ ابواب میں سے ایک رہنے کے امکانات ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں