طالبان کے وزیر دیہی بحالی و ترقی، عبد العزیز منصور نے کہا ہے کہ افغانستان کبھی کسی ملک کی عملداری کو قبول نہیں کرے گا، اور پاکستان کے ساتھ آزادانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ کے وسط میں دیا گیا ہے۔
عبد العزیز منصور نے پکتیا صوبے میں بیان دیتے ہوئے افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کی استواری پر زور دیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کبھی کسی دوسرے ریاست کی عملداری قبول نہیں کرے گا، یہ بات یاد دلاتے ہوئے کہ افغانستان نے اپنی پوری تاریخ میں محکومیت کے خلاف مزاحمت کی ہے۔
منصور نے افغانستان کی ماضی کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک جو طاقتور قوتوں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، دوسروں پر انحصار کرنے کو قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید یہ وضاحت کی کہ افغانستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ اسلامی تعلقات چاہتا ہے، لیکن اسے کبھی بھی زیر دست کے طور پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔
طالبان کے وزیر نے انتباہ کیا کہ اگر افغانستان پر حملے جاری رہے، تو پاکستان کو ایک فیصلہ کن اور سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بعض ممالک کا بھی ذکر کیا جو افغان ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ تناؤ کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ کابل اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
طالبان کے عہدیداروں نے بار بار پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اختلاف پیدا کرنے والے افراد کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ صورت حال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے عمیق چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔