جورج ٹاؤن یونیورسٹی کا انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین، امن، اور سلامتی نے افغانستان کو دنیا کے لیے خواتین کے لحاظ سے بدترین ملک قرار دیا ہے، جو ملک میں خواتین کے حقوق میں زبردست کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
جورج ٹاؤن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین، امن، اور سلامتی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان کو 181 ممالک میں خواتین کے لیے بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہ درجہ بندی 13 انڈیکیٹرز کا تجزیہ کرتے ہوئے تین زمروں: شرکت، انصاف، اور سلامتی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
افغانستان میں خواتین کی حالت طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نمایاں طور پر خراب ہوئی ہے۔ تعلیم، ملازمت، اور سماجی آزادیوں جیسے شعبوں میں سخت پابندیاں ملک پر طاری ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں 2.2 ملین سے زائد لڑکیوں نے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کھو دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پابندیاں خواتین کی ملازمت اور ان کی عوامی زندگی میں موجودگی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں پر سکول جانے کی پابندی بدستور قائم ہے۔ خواتین کی ملازمت اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت کے مسائل پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں ڈنمارک، آئی لینڈ، ناروے، سویڈن، اور فن لینڈ کو خواتین کے لیے بہترین ممالک قرار دیا گیا ہے۔ یہ انڈیکیٹرز دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین کی حیثیت کا اندازہ لگانے کے لیے بنیادی معیارات کی حیثیت رکھتے ہیں۔