حصہ : بین الاقوامی -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 9 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ: افغانستان خواتین کے حقوق کے لئے بدترین ملک قرار

جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین، امن، اور سیکیورٹی نے افغانستان کو دنیا کا بدترين ملک قرار دیا ہے، جس میں خواتین کے حقوق میں زبردست کمی کو اجاگر کیا گیا ہے۔


افغانستان کو خواتین کے لئے دنیا کا بدترين ملک قرار دیا گیا

جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین، امن، اور سیکیورٹی کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان کو 181 ممالک میں خواتین کے لئے بدترين ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہ درجہ بندی 13 اشاریوں کے تجزیے پر مبنی ہے جو تین شعبوں: شرکت، عدلیہ، اور سلامتی کا احاطہ کرتی ہے۔

افغانستان خواتین کے لئے 181 ممالک میں سب سے نیچے ہے

2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں خواتین کی صورتحال میں نمایاں خرابی آئی ہے۔ تعلیم، کام، اور سماجی آزادیوں کے مختلف پہلوؤں میں سخت پابندیاں اب بھی اس ملک پر مسلط ہیں۔

جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ: افغانستان میں خواتین کی حیثیت میں بڑی کمی آئی ہے

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں 22 لاکھ سے زائد کم عمر لڑکیاں تعلیم تک رسائی کھو چکی ہیں۔ مزید یہ کہ، انسٹی ٹیوٹ نے ان پابندیوں کے خواتین کی ملازمت اور عوامی مطالعے میں شرکت پر منفی اثرات کی بھی تحقیق کی ہے۔

افغان خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں کا مسلسل انکار

چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔ خواتین کی ملازمت کے مسائل اور سماجی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت کے حوالے سے مشکلات میں مزید شدت آ گئی ہے۔

افغانستان میں خواتین کی حیثیت کا تجزیہ دیگر ممالک کے مقابلے میں

رپورٹ میں ڈنمارک، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن، اور فن لینڈ کو خواتین کے لئے بہترین ممالک کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ یہ اشاریے مختلف دنیا کے مختلف علاقوں میں خواتین کی حیثیت کا جائزہ لینے کے لئے اہم معیارات فراہم کرتے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں