رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، طالبان نے متعدد ہدایات کے ذریعے میڈیا کی آزادی کو شدید حد تک محدود کر دیا ہے، جس سے افغانستان معلومات کی قید خانہ بن چکا ہے۔
رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کے بیان کے مطابق، طالبان کی حکمرانی کے پانچویں سال میں بھی صحافیوں کے خلاف دباؤ جاری ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے 20 سے زائد قومی احکامات اور کئی صوبائی ہدایات جاری کر کے پریس کی آزادی کو محدود کر دیا ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ ملک میں میڈیا کا ماحول increasingly constrained ہو رہا ہے، یہاں تک کہ طالبان حکومت کی تنقید بھی سختی سے ممنوع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، زندہ مخلوق کی تصاویر کی اشاعت بھی ممنوع ہے، اور صحافیوں کو قانونی خطرات اور سخت سزاؤں کا سامنا ہے۔
افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن کے سربراہ حمید عبیدی نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں پریس کی آزادی کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، “موجودہ افغان نظام میں تنقید کو جرم سمجھا جاتا ہے، اور صحافیوں کے خلاف ان کے تنقیدی مواد پر مقدمے چلائے جاتے ہیں۔”
افغان صحافی مینا اکبری نے رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مثبت پہلوؤں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ صحافی سوشل میڈیا پر بھی اپنی رائے کا اظہار آزادانہ طور پر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا، “انہیں ایسے موضوعات پر بھی پابندیاں کا سامنا ہے جن پر بات کرنے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔”
رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز نے میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے والے تمام قوانین کے خاتمے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ سینکڑوں افغان صحافیوں کو اس دباؤ سے بچنے کے لئے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ان ممالک سے بھی اپیل کرتی ہے جو صحافیوں کی پناہ گاہ ہیں کہ وہ ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔