
یوناما کی رپورٹ میں طالبان کی سیکیورٹی اداروں کی شفافیت کے فقدان پر روشنی ڈالتے ہوئے جوابدہی اور اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن (یوناما) نے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ طالبان کے اہلکاروں نے اگست 2021 سے سیکیورٹی اداروں میں جوابدہی اور نگرانی کے اقدامات کیے ہیں، مگر ان اقدامات میں اہم شفافیت کے فقدان کا مسئلہ موجود ہے۔
10 اگست کو شائع ہونے والی 38 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں یوناما نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ طالبان کے رہنما بعض عوامی شکایات کا جواب دینے میں متحرک رہے ہیں، لیکن ایک بڑی تعداد میں یہ شکایات حل طلب ہیں۔
مشین کی سربراہ جارجیٹ گنیون نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی معلومات کی فراہمی میں پابندیاں عوامی اعتماد پر منفی اثر ڈال رہی ہیں اور غلط روی کے واقعات کو روکنے کی کوششوں کی افادیت کو کم کر رہی ہیں۔
یوناما کا ماننا ہے کہ جوابدہی کو بڑھانا حکومتی اہلکاروں کا قانونی فرض ہے اور اس سے حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام میں بہتری کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔ تنظیم نے سفارش کی ہے کہ تمام سیکیورٹی اداروں میں جوابدہی کو مضبوط بنایا جائے۔
یوناما نے یہ بھی بتایا کہ انتقامی کارروائی کا خوف اور حکومتی اداروں پر عدم اعتماد نے خاص طور پر خواتین کے لیے غلط روی کی رپورٹنگ کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایجنسی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے طرز عمل کے اصولوں کی وضاحت کریں اور ان کے رویے کے لیے پیشہ ورانہ معیارات قائم کریں۔