
بدخشان میں سونے کی کان کنی کی توسیع نے ہزاروں ملازمت کے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم ان سرگرمیوں نے ماحولیاتی تباہی اور قدرتی وسائل کی کمی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔
بدخشان صوبے میں سونے کی کان کنی نے ہزاروں افراد کے لیے روزگار اور آمدنی کا ایک ذریعہ فراہم کیا ہے۔ یہ سرگرمی خاص طور پر “شیوا” سونے کی کان پر دیکھی گئی ہے، جو فیض آباد سے 50 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں 2021 سے متعدد کان کنی کے معاہدے طے پائے ہیں، اور اس شعبے کی سالانہ ترقی کی اوسط شرح 25% سے 30% کے درمیان ہے۔
طالبان کی وزارت معادن و پٹرولیم نے اعلان کیا ہے کہ بدخشان میں کان کنی کی سرگرمیوں کو منظم اور نگرانی کرنے کی کوششوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام شدید کان کنی کو روکنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ملازمت کے فوائد کے باوجود، دریاؤں اور زرعی زمین کی تباہی کے حوالے سے اہم خدشات موجود ہیں۔ ایک مقامی کاشتکار نے اطلاع دی کہ کان کنی کی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد دریا کا پانی استعمال کے لائق نہیں رہا۔
ماہرین زور دیتے ہیں کہ قدرتی وسائل کی تیز نکاسی کے ساتھ مقامی حقوق اور ماحولیاتی معیارات کا احترام بھی ضروری ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مقامی آبادی کی زندگی پر سنگین مسائل کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔