جرمن حکومت نے 31 افغان شہریوں کو ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے کابل واپس بھیج دیا ہے۔ داخلی امور کے وزیر الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ کے مطابق، ان میں سے 30 افراد ایسے ہیں جن کو سنگین جرائم میں سزا ملی تھی، اور پہلی بار ایک ایسے مہاجر کو بھی ڈیے گیا ہے جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور جس کی پناہ کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
جرمن حکام نے اعلان کیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی ڈیہونے کا عمل ابھی جاری ہے۔ حالیہ واقعے میں 31 افغان شہریوں کو براہ راست لائپزگ/ہالی ایرپورٹ سے کابل بین الاقوامی ایئرپورٹ تک پہنچایا گیا۔ یہ ڈیہونے کا عمل برلن کی غیر دستاویزی مہاجروں اور مسترد پناہ گزینوں کے خلاف سخت پالیسیوں کا حصہ ہے۔
وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 30 واپس بھیجے گئے افراد ایسے سنگین مجرم تھے جو جرمن عدالتوں سے جرائم جیسے قتل، جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں مجرم قرار دیئے گئے تھے۔ تاہم، انہوں نے تصدیق کی کہ ایک فرد کو بغیر کسی مجرمانہ ریکارڈ کے ڈیہونے کے عمل میں شامل کیا گیا۔ اس شخص کو قانونی عمل کے تحت جرمنی چھوڑنا پڑا جب ان کی پناہ کی درخواست بالآخر مسترد ہو گئی۔ یہ اقدام صرف مجرموں کے علاوہ دیگر مسترد پناہ گزینوں کے لئے بھی ڈیہونے کے عمل کی توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان افراد کی واپسی طالبان حکومت کے ساتھ معاہدوں اور مذاکرات کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جو کہ تیسرے ممالک کی شمولیت کے بغیر براہ راست اور باقاعدہ پروازوں کی اجازت دیتی ہے۔ شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں ڈیہونے کے عمل کی رسمی بحالی کے بعد، جرمنی سے 200 سے زائد افغان شہری واپس کیے جا چکے ہیں۔
ان کی واپسی نے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی لہر پیدا کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، واپس بھیجے گئے افراد کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، یاد دلاتے ہوئے کہ کم از کم ایک افغانی جو پہلے واپس بھیجا گیا تھا، اسے قتل کر دیا گیا۔ مزید برآں، مظاہرین اور جرمن پارلیمنٹ کے بعض اراکین نے اس واقعے کی وضاحت انسانی حقوق کی چیلنجز کی نظراندازی کے طور پر کی ہے اور زبردستی ڈیہونے کی پروازوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔