طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے فارن پالیسی کے اس رپورٹ کی تردید کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کابل چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو مبالغہ آمیز اور غیر حقیقی قرار دیا۔ مجاہد نے زور دے کر کہا کہ حالیہ سرحدی واقعات انسانوں کی اسمگلنگ کی سرگرمیوں کی وجہ سے پیش آئے ہیں اور اب اقتصادی منصوبوں اور چینی مزدوروں کے تحفظ کے لیے سخت سیکیورٹی تدابیر موجود ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی نشریاتی ادارے فارن پالیسی کے حالیہ رپورٹ کے جواب میں کہا کہ افغان حکومت ملک کی تمام سیکیورٹی کے پہلوؤں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ سیکیورٹی فورسز چینی مزدوروں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ انٹیلی جنس اور فوجی ایجنسیاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حفاظت کو ترجیح دیتی ہیں۔ مجاہد نے مزید کہا کہ اس رپورٹ میں استعمال ہونے والی زبان مبالغہ آمیز اور سیاسی طور پر تحریک شدہ ہے۔
سرحدی علاقوں میں ہونے والے واقعات کی تفصیل دیتے ہوئے، حکومت کے ترجمان نے وضاحت کی کہ کچھ سابقہ واقعات کسی مخصوص دہشت گردی کے حملے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بارے میں کیے گئے دعوے درست نہیں ہیں۔ کچھ واقعات اسمگلروں کی جھگڑوں سے متعلق ہیں، جو بعض اوقات کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ مجاہد نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ کچھ ہدف بنا کر تشدد کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، لیکن سیکیورٹی فورسز نے کامیابی سے ایسے واقعات کی دوبارہ ہونے سے روک دیا ہے اور مزدوروں کی جسمانی سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔
اس سے پہلے، فارن پالیسی نے ایک امریکی محقق کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ طالبان مقامی خطرات سے چینی کارکنوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مضمون میں افغانستان-تاجکستان سرحد کے اس علاقے کی تفصیل دی گئی تھی جہاں چینی سونے کی کان کنی کے منصوبے واقع ہیں، اور کہا گیا کہ یہ چینی شہریوں کے لیے خطرناک ہیں۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق، نومبر 2024 سے اب تک چینی شہریوں کے ساتھ سات سیکیورٹی کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن کے نتیجے میں نو ہلاکتیں اور دس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ان خدشات کے جواب میں، مجاہد نے کان کنی کے علاقوں میں مزید فوجوں کی تعیناتی کا اعلان کیا اور یہ یقینی بنایا کہ چینی مزدوروں کی موجودگی والے مقامات کی حفاظت بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نگران حکومت کسی بھی غیر شناخت شدہ مسلح گروپ کو اقتصادی سرگرمیوں اور کابل اور بیجنگ کے درمیان اسٹریٹجک معاہدوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔ یہ میڈیا کی یہ کشمکش واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان افغانستان کے زیر زمین وسائل پر بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جہاں چینی مزدوروں کی حفاظت کو ایک سفارتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔