اقوام متحدہ کی امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے پاکستانی فضائی حملوں کے باعث شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں درجنوں افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ کابل کی جانب سے جوابی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ تہران نے خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس کے باوجود اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد گروپوں کے آپریشنل مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے۔
UNAMA نے پاکستانی فضائی حملوں کے نتائج پر ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ ننگرہار صوبے کے بہسود اور خودیانی اضلاع میں کم از کم 13 شہری، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 7 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ایجنسی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ پکتیکا صوبے کے برمال اور ارگون اضلاع پاکستانی فوج کے نشانے پر رہے ہیں۔ UNAMA نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان فوری اور مستقل طور پر مسلح تصادم کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے شہری ہلاکتوں کی رپورٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقوں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ضبط نفس کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس دوران، ایران کی وزارت خارجہ نے موجودہ صورتحال پر الرٹ جاری کیا ہے، اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ترجمان اسماعیل باقائی نے خبردار کیا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دونوں ممالک کی سرحدوں سے آگے تباہ کن اثرات ڈال سکتی ہے۔
ننگرہار پولیس کمان کے ترجمان سید طیب حامد نے بہسود ضلع میں 18 خاندان کے افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا جبکہ پاکستانی انٹیلی جنس کا ایک مختلف بیانیہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے تحریک طالبان پاکستان اور ISIS کے سات مراکز اور خفیہ مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں، پاکستانی میڈیا عارضی حکومت پر حقیقت کو چھپانے کا الزام لگا رہا ہے، ادعا کرتے ہوئے کہ وہ دیگر نشانے پر لیے گئے مقامات کی میڈیا تک رسائی بھی محدود کر رہے ہیں۔
کابل حکومت کی وزارت دفاع نے ان فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ وقت آنے پر پاکستان کی فوجی کارروائیوں کا جواب دے گی۔ یہ متنازعہ امور اسلام آباد کی جانب سے طویل عرصے سے کیے جانے والے دعووں سے جنم لیتے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ TTP کے کارکن افغانستان میں پناہ لے کر اپنی کارروائیاں وہاں سے منظم کر رہے ہیں۔ کابل ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مسلسل یہ کہتا آیا ہے کہ وہ کسی بھی گروہ کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ جاری فضائی حملے اور ڈورنڈ لائن پر سرحدی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک ایسے فوجی تصادم کی سطح تک پہنچا دیا ہے جو ممکنہ طور پر ایشیا کے دل میں ناقابل انتظام بحران کا باعث بن سکتا ہے۔