حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 10 فوریه , 2026 خبر کا مختصر لنک :

عبداللطیف نظری کا ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع پر تجزیہ

اقتصادی امور کے نائب وزیر عبداللطیف نظری نے اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر ایران کو مبارکباد دی، اور تہران کی امریکہ کے خلاف مزاحمت کو حق اور باطل کے درمیان ایک تصادم قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان توڑ نہ سکنے والے تعلقات پر زور دیا اور دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔[[–MAT-READ-MORE–]]

سخت پابندیوں کے باوجود معاشی ترقی: کابل اور تہران کا 10 ارب ڈالر کا ہدف

اپنی حالیہ بیانات میں، طالبان حکومت کے اقتصادی امور کے نائب وزیر عبداللطیف نظری نے اسلامی جمہوریہ ایران کی عالمی ترقیات میں اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کو ایک تاریخی، ساختیاتی اور تہذیبی جنگ کے طور پر بیان کیا، جسے وہ حق اور باطل کے درمیان کے ایک معرکے کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ نظری کا خیال ہے کہ ایران کا خود مختار نظام کے خلاف مؤقف نہ صرف ایک قومی موقف ہے بلکہ یہ مذہبی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر استوار ہے جو اسلامی دنیا میں گونجتا ہے۔

اسلامی اتحاد: غزہ جیسے سانحات سے بچنے کی حکمت عملی

نظری کے بیانات کا ایک اور اہم نقطہ فلسطین اور غزہ کی نازک صورتحال تھی۔ انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان تقسیم کے خلاف خبردار کیا اور اسلامی اتحاد کو ایک فوری ضرورت قرار دیا۔ کابل کے اس اہلکار نے کہا کہ جابرانہ طاقتیں مسلمانوں کے درمیان کسی بھی دراڑ کا فائدہ اٹھاتی ہیں تاکہ اپنے مقاصد کو پورا کریں، اور غزہ میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ سانحات مداخلتوں کے خلاف ایک یکجا اور طاقتور اسلامی محاذ کی عدم موجودگی کے براہ راست نتائج ہیں۔ نظری نے افغانستان اور ایران کے تعلقات کو مقبوضیت کے خاتمے کے بعد ایک ترقی پذیر بھائی چارے کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے دونوں اقوام کے درمیان قدرتی اور جڑت والے قریبی روابط پر زور دیا، اور یہ واضح کیا کہ ان کے مشترکہ ثقافتی اور تہذیبی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ کوئی بھی خارجی عنصر یا سیاسی سازش انہیں کمزور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی امارت کے قیام سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں استحکام اور باہمی احترام کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

زیادہ ملاحظہ کی جانے والی خبریں

منتخب خبریں