بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) اور اقوام متحدہ کے پناہ گزین کمشنر (UNHCR) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے افغان شہریوں کی بے دخلی کی تعداد فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں 33 فیصد بڑھ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی ہجرت کی ایجنسیوں کی حالیہ مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 1 سے 7 فروری کے درمیان 2,013 افغان شہریوں کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر زبردستی سرحد پار بے دخل کیا۔ یہ جنوری کے آخری ہفتے کی نسبت ایک حیران کن 33 فیصد اضافہ ہے، جو پاکستان کے مختلف صوبوں میں پولیس کی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی کو اجاگر کرتا ہے۔
IOM کی رپورٹ کا ایک خاص طور پر تشویشناک پہلو واپسی کے خواہاں مہاجرین پر نفسیاتی اثرات ہے۔ افغانستان واپس آنے والے افراد کے انٹرویوز میں، 99 فیصد نے بتایا کہ ان کے پاکستان میں اپنے گھروں کو چھوڑنے کی واحد وجہ پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کا خوف اورتشدد کے تجربات تھے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واپسی خود اختیاری نہیں ہے، جیسا کہ اسلام آباد کے حکام نے دعویٰ کیا ہے، بلکہ یہ ایک خوفزدہ ماحول کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے پناہ گزین اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
جنوری میں واپسی کا رجحان بھی انتہائی شدید رپورٹ ہوا۔ پچھلے ماہ کے آخری دو ہفتوں کے دوران، 38,000 سے زائد افراد سرکاری سرحدوں کے ذریعے افغانستان داخل ہوئے۔ سردیوں کے وسط میں اتنے بڑے آبادی میں اچانک اضافہ افغان حکومت اور امدادی اداروں کے محدود وسائل پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان میں سے بہت سی families انتہائی بدحالی کے حالات میں پڑوسی صوبوں میں موجود ہیں، جہاں انہیں مناسب رہائش اور مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا مہاجرین کے معاملات کو سیاسی فائدے کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی پناہ گزین کنونشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔ چونکہ ان افراد میں سے اکثر کئی سالوں سے پاکستان میں رہائش پذیر ہیں، ان کی اچانک بے دخلی نہ صرف کابل کے لیے ایک سیکیورٹی بحران بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی ایک انسانی سانحہ ہے جو سب کچھ چھوڑ کر، صرف اپنے کپڑوں کے سوا سرحدیں پار کر رہے ہیں۔