حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : پنج‌شنبه, 1 جولای , 2021 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان میں امن قائم کرنے کی خاطر واشنگٹن کو مدد کرنی ہوگی: امریکی عہدے دار

افغانستان کی جنگ میں شمولیت کرنے والے ایک امریکی جنرل کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو افغانستانی عوام کو مدد فراہم کرنا چاہئے تا کہ وہ طالبان سے لڑ سکیں۔


الجزیرہ نے آسٹن ملر نامی امریکی جنرل کے خیالات نشر کئے جس میں انہوں نے کہا: اس وقت امریکہ کے پاس افغانستانی سرزمین پر فراوان فوجی اسلحہ ہے، اور امریکی فوج کو ملک چھوڑنے سے پہلے افغانستانی عوام کو شدت پسند گروہوں اور طالبان کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کرنی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا: یہ عین ممکن ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد یہاں امن اور سلامتی شدید طور پر مشکل سے دوچار ہو، لہذا جب تک ہم اس ملک میں موجود ہیں، ہمیں افغانستانی عوام کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اور طالبان کو مختلف علاقوں میں پیشرفت سے روکنے میں عوام کی مدد کرنی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا: افغانستان میں کچھ اسٹریٹجک علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے جیسے بارڈر کراسنگ پر انکا غلبہ ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کو افغانستان سے کامل انخلا سے قبل اس صورتحال پر غور کرنا چاہئے۔ شاید افغانستان کے اندر پیش آنے والی یہ پیشرفت ملک کو ایک مکمل اور دیرینہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں لے لے۔

ملر نے زور دیا: صرف سیاسی حل ہی افغانستانی عوام کے لئے اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں مختلف گروہوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تا کہ ایک جامع امن معاہدے تک رسائی ہو سکے۔

امریکہ تقریبا دو دہائیوں سے دہشت گردی اور انتہا پسند گروہوں سے جنگ کے بہانے افغانستان میں فوجی مداخلت کر رہا ہے۔ تاہم، امریکی عہدے داروں کو ملک میں بے شمار شکست کا سامنا کرنے کے بعد اب انہوں نے خالی ہاتھ ہی افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہت سے لوگ اس جنگ کو امریکہ کے لئے ایک دو طرفہ تلوار قرار دیتے ہیں کیونکہ امریکہ کو شدید اقتصادی اور فوجی ناکامی اٹھانا پڑی ہے۔

تاہم، امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستانی عہدیداروں سے حالیہ ملاقات میں کہا ہے کہ اگرچہ امریکی افواج افغانستان چھوڑ رہی ہیں، لیکن واشنگٹن کا مستقل طور پر افغانستان چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان اظہارات کے بعد طالبان سمیت مختلف داخلی گروہوں نے جوابا کہا ہے کہ دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد افغانستان میں کسی بھی امریکی موجودگی کے ذمےدار وہ خود ہوں گے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں