بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف صوبوں پر حالیہ فضائی حملوں کی مذمت کی ہے، ان کارروائیوں کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کی ایک آزاد افغانستان کے خلاف دشمنی کا مظہر قرار دیا ہے۔ اس بیان کا پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے سخت اور دفاعی جواب ملا...
کابل اور اسلام آباد کے درمیان فوجی تناؤ اب بھارتی اور پاکستان کے درمیان ایک سفارتی تصادم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کی رات جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں ترجمان رندھیر جے سوئل کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا صوبوں پر فضائی حملوں کی سخت مذمت کی۔ نئی دہلی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائیاں ایک ایسے ملک کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں جو پاکستان کی جانب سے آزادی کے حصول کے سلسلے میں مسلسل مخالفت کا سامنا کر رہا ہے۔
اس موقف کے جواب میں، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان، طاہر اندروی، نے بھارت کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ملک کی فضائی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے ان حملوں کو دہشت گردوں کی حمایت کے مقامات اور پناہ گاہوں پر نشانہ بننے والی جائز کارروائیاں قرار دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانا ہے، تاہم میدان کے شواہد کے مطابق ایسے حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔
قابل اعتبار رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی بمباری نہ صرف فوجی مقاصد کو متاثر کر رہی ہے بلکہ افغانستان میں اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک سنگین واقعے میں، قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی ایئرلائن کام ایئر کی ایندھن کی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر حملہ کیا گیا، جس نے بڑی آگ بھڑکائی اور 600 ٹن سے زیادہ ایندھن کو تباہ کر دیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس تباہی اور درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان کی قومی سالمیت کا مکمل احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس معاملے میں بھارت کی شمولیت اور افغانستان کی قومی خودمختاری کی واضح حمایت اس خطے کی جغرافیائی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان کابل کو فوجی دباؤ کے ذریعے سیکیورٹی تعاون پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نئی دہلی ان کارروائیوں کی مذمت کر کے افغانستان میں استحکام اور آزادی کے حامی کے طور پر اپنی حیثیت کو مضبوط کر رہا ہے۔ اس راستے پر چلنے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی اور سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔