حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 30 مارس , 2026 خبر کا مختصر لنک :

احمد مسعود کی طالبان کی سیکیورٹی پالیسیوں پر تنقید: افغانستان کے مستقبل کا خطرہ

احمد مسعود، افغانستان کی قومی مزاحمتی فرنٹ کے رہنما، نے طالبان کی سیکیورٹی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ یہ گروپ افغانستان کو ایک میدان جنگ اور خطرناک جغرافیائی کھیلوں میں ایک آلہ کار بنا رہا ہے جبکہ عالمی دہشت گردی کی نیٹ ورکس کو پناہ دے رہا ہے...


پاکستان کے حملے؛ کابل کی پالیسیوں کے نتائج

مسعود نے مرحوم عبدال علی مزاری کی 31 ویں برسی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ سرحدی کشیدگی کا کڑا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے افغانستان کی سرحدوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، جیش العدل، اور انصار اللہ جیسے گروپوں کی موجودگی کا حوالہ دیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔

قومی مزاحمتی فرنٹ کی عسکری صورتحال

پنجشیر صوبے کے سقوط کے بعد، قومی مزاحمتی فرنٹ نے حالیہ برسوں میں مسلح اور جنگل لڑائی کی طرف منتقل ہو گیا ہے، شمالی صوبوں میں لڑائی کی قیادت کر رہا ہے۔ اگرچہ فرنٹ نے ان جھڑپوں میں اپنے کچھ اعلیٰ کمانڈروں کو کھو دیا ہے اور اب طالبان حکومت کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں زیادہ محتاط انداز میں عسکری سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، احمد مسعود اصرار کرتے ہیں کہ ان کی فوجوں کے طالبان کے مقامات پر حملے جاری ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

کابل کی تردیدیں اور خطے کی تشویشیں

جوابی طور پر، کابل کی عبوری حکومت کے عہدیدار بار بار ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی گروپ کو افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کی سیکیورٹی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ تاہم، پاکستان کی طرف سے سرحد پار حملوں میں اضافہ اور پڑوسی ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات طالبان کے سرکاری بیانات اور سرحدوں پر حقیقی سیکیورٹی حالات کے درمیان ایک اہم خلا کو اجاگر کرتے ہیں۔ مسعود کا یقین ہے کہ جب تک کابل میں کوئی شمولیتی اور جوابدہ حکومت قائم نہیں کی جاتی، افغانستان بحران کا مرکز اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بنا رہے گا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

زیادہ ملاحظہ کی جانے والی خبریں

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں