طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اراکین کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سمجھوتہ ضروری ہیں، اور خبردار کیا کہ اگر سرحد پار حملے دوبارہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوگی۔
خیبر نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، مجاہد نے دوبارہ کہا کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ واضح کرتے ہوئے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ کوئی بھی گروپ افغان زمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
مجاہد نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان تنازعات کو بات چیت اور سمجھوتے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم جنگ کے حامی نہیں ہیں؛ ان مسائل کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی اور حل اتفاق رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔”
پاکستان کی جانب سے پکتیکا صوبے اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں، مجاہد نے نوٹ کیا کہ ان حملوں سے خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایسے اقدامات جاری رہے تو نتیجہ کی پوری ذمہ داری مخالف فریق پر عائد ہوگی۔
ایک پاکستانی میڈیا کے ساتھ ایک علیحدہ انٹرویو میں، مجاہد نے کہا کہ افغانستان کے پانی کے وسائل کا انتظام کرنا اس کا مسلمہ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو، جیسا کہ پاکستان، ڈیم تعمیر کرنے اور اپنی سرزمین پر اپنے وسائل کو منظم کرنے کا حق ہے۔
دریں اثنا، پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندربھی نے امید ظاہر کی ہے کہ طالبان اور اسلام آباد کے درمیان استنبول میں ہونے والے تیسرے مذاکرات کے دور میں تعمیری نتائج سامنے آئیں گے۔
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں کئی سرحدی جھڑپوں اور دونوں ممالک کے درمیان شدت پسند گروپوں کی پناہ گاہوں کے الزامات کے بعد کافی خراب ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ترکی اور قطر کی مدد سے۔