اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مشرقی افغانستان میں زلزلہ متاثرین کی مالی اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے اسلامی یکجہتی فنڈ (ISF) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ امداد افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے تعاون سے متاثرین تک پہنچائی جائے گی۔
OIC کے میڈیا دفتر نے مشرقی افغانستان میں ستمبر میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے OIC اور ISF کے درمیان ایک معاہدے کے دستخط کی اطلاع دی ہے۔ یہ معاہدہ ان خاندانوں کی حمایت کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں اس آفت کی وجہ سے بڑے انسانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
تنظیم کے مطابق، یہ معاہدہ اسلامی یکجہتی فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد بن سلمان الخیل اور افغانستان میں OIC کے نمایندے محمد سعید الایاش نے دستخط کیا۔
معاہدے کی شقوں کے تحت، OIC کا دفتر کابل میں افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں کی شناخت اور امداد کی تقسیم پر کام کرے گا۔ تنظیم کی طرف سے دی گئی سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد کی فراہمی کا عمل جلد شروع ہوگا، جس کا مقصد انسانی مصیبتوں میں فوری راحت فراہم کرنا اور اسلامی کمیونٹیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ہے۔
OIC نے زور دیا کہ یہ اقدام اسلامی یکجہتی فنڈ کی جاری انسانی مشن کا حصہ ہے، جو بحران کی حالت میں مسلم ممالک کی مدد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلامی دنیا میں بار بار ہونے والے انسانی بحرانوں کا جواب موثر اور دل سے ہونا چاہیے، اور یہ معاہدہ اس مقصد کی جانب ایک قدم ہے۔
اس سال ستمبر میں، ایک طاقتور زلزلے نے مشرقی افغانستان کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ننگرہار اور کونر جیسے صوبوں میں درجنوں ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان علاقوں میں سینکڑوں گھر اور بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد، OIC نے رکن ممالک سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی اور انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔