ذبیح اللہ مجاہد، عبوری حکومت کے چیف ترجمان، نے ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ایران کی مضبوط دفاعی صلاحیتوں اور حوصلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران اس تنازع میں شکست نہیں کھائے گا۔
مجاہد نے انٹرویو میں کابل کے موقف پر روشنی ڈالی، خاص طور پر ایران اور مغربی بلاک کے درمیان جاری تناؤ پر۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو ایک آزاد ملک پر جارحیت قرار دیا اور ان کی سختی سے مذمت کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلامی جمہوریہ ایران اس تنازع میں شکست کا سامنا کرے گا، تو مجاہد نے اس خیال کو پوری خود اعتمادی کے ساتھ رد کیا، کہتے ہوئے، “ہمیں یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا؛ ایرانی قوم کے پاس ایسے واقعات کا سامنا کرنے کا تجربہ موجود ہے۔” انہوں نے ایران کی مسلح افواج کی ساختی طاقت کو اجاگر کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایران کے پاس ایک طاقتور فوج موجود ہے اور وہ صورتحال کو سنبھالنے میں یقینی طور پر سنجیدہ مشکلات کا سامنا نہیں کرے گا۔
بات چیت کے ایک حصے میں واشنگٹن کے الزامات کا بھی ذکر ہوا، جس میں کہا گیا ہے کہ وہاں کے شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ مجاہد نے افغانستان میں دو امریکی شہریوں کی حراست کی تصدیق کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ دونوں افراد ملک کے داخلی قوانین کی واضح خلاف ورزیوں کی وجہ سے عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے ان حراستی کارروائیوں کی تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا گیا۔ ان مسائل کا حل بات چیت میں ہے، اور واشنگٹن کو دباؤ اور دھمکی کی پالیسیوں سے گریز کرنا چاہئے۔”
عبوری حکومت کے چیف ترجمان نے افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی موجودہ پالیسیوں کو جنگ کے دور کی سوچ کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے جاری اقتصادی پابندیوں، افغان اہلکاروں کو بلیک لسٹ پر رکھنے، اور کچھ پاکستانی فوجی کمانڈروں کے اشتعال انگیزی کو علاقے کی سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کا حصہ قرار دیا۔ مجاہد نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اپنی قدیم دباؤ کی تکنیکوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھا سکے، جسے انہوں نے علاقے کی استحکام کے لیے بڑے رکاوٹوں کے طور پر بیان کیا۔