امریکہ نے حال ہی میں غیر قانونی تارکین وطن، جن میں افغانستان اور ایران کے شہری شامل ہیں، کو وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام ملک کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا حصہ ہے، جس سے سنگین سیکیورٹی اور انسانی مسائل جنم لے رہے ہیں...
رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی ایک چارٹر پرواز ہفتے کے روز وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بانگی پہنچ گئی۔ اس پرواز نے غنا میں ایک اسٹاپ لیا اور اس میں کم از کم دو خواتین شامل تھیں جنہیں پہلے عارضی رہائش اور واپسی کی روکنے کی اجازت ملی تھی۔
انسانی حقوق کے وکلا نے ان تارکین وطن کی اپنے وطن واپس جانے پر خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے، کہ انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وسطی افریقی جمہوریہ میں اس منتقلی کے باعث ملک کی کمزور سیکیورٹی اور معاشی صورت حال کی بھی تشویش بڑھ گئی ہے، جو بڑی مشکلات سے دوچار ہے۔
امریکہ کی شہریت اور امیگریشن خدمات (USCIS) نے حال ہی میں ان امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو پچھلی پالیسیوں کی وجہ سے روکی گئی تھیں۔ یہ اقدام ایک وفاقی عدالت کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کچھ معاملات کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
بہت سے افغان تارکین وطن جو 2021 کے بعد امریکہ آئے ہیں، ابھی تک گرین کارڈز یا مستقل رہائش حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں دیportation کا خدشہ ہے۔ حالیہ عدالت کے فیصلے میں مختلف درخواستوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں گرین کارڈ، شہریت اور کام کے اجازت نامے شامل ہیں، جو ان تارکین وطن کے لیے امید کی کرن ثابت ہو رہے ہیں۔