طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان میں کوئی عسکری کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ طالبان اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے ثالثی کریں۔
ذبیح اللہ مجاہد، طالبان کے ترجمان، نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ افغان سرزمین پر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی سے گریز کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستانی فورسز افغان سرحد پر داخل ہوتی ہیں یا عسکری کارروائی کرتی ہیں تو طالبان اپنے ملک کا مضبوطی سے دفاع کریں گے۔
مجاہد نے کہا، “پاکستان کو اپنی سلامتی کی خاطر افغانستان میں عسکری کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔” انہوں نے سعودی عرب سے بھی کہا کہ وہ طالبان اور پاکستان کے درمیان جاری تناعات کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھے، اور سعودی عرب کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔
ایک انٹرویو میں، مجاہد نے طالبان حکومت کی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور افغانستان کی تعمیر نو اور امن و استحکام کے قیام کے لیے سعودی عرب کے کردار کا خیر مقدم کیا۔ سعودی عرب ماضی میں طالبان اور پاکستان کے درمیان ثالث کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مثلاً، پچھلے سال 17 فروری کو، طالبان نے سرحدی جھڑپوں کے دوران پاکستانی فوج کے تین گرفتار فوجیوں کو سعودی ثالثی کی مدد سے رہا کیا تھا۔
مجاہد نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی کے حوالے سے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “یہ گروپ اور دیگر بلوچ جماعتیں طویل عرصے سے پاکستان میں سرگرم ہیں، اور ان کے مسائل کو افغانستان سے جوڑنا نہیں چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کبھی بھی تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور یہ بات دہرائی کہ کابل حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ اس کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان نے بار بار طالبان پر تحریک طالبان پاکستان کے اراکین کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ افراد افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے کرتے ہیں، جبکہ طالبان نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔
دوسری جانب، طالبان کے عہدیداروں نے پاکستان پر افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے، جس نے دونوں طرف کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔