طالبان حکومت نے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق حالیہ پاکستانی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان میں 761 شہری ہلاک اور 27,000 سے زائد خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ 22 فروری 2023 سے 3 اپریل 2023 تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے اور سرحدی صوبوں میں شہری انفراسٹرکچر، مساجد اور اسکولوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کو اجاگر کرتی ہے۔
اس سرکاری رپورٹ کے مطابق، حالیہ فوجی کارروائیوں میں 761 شہری ہلاک اور 626 مزید افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جھڑپوں اور بمباری کی شدت نے 1,140 رہائشی مکانات کی مکمل تباہی کا باعث بنی، جس کے نتیجے میں 27,407 سے زیادہ خاندان محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ یہ وسیع پیمانے پر بے گھری نے پاکستان کے ہمسایہ صوبوں میں ایک نئی انسانی بحران پیدا کردیا ہے۔
کابل کی جانب سے جاری کردہ معلوماتی گراف پر دکھایا گیا ہے کہ ان حملوں کے نشانے صرف فوجی مقامات نہیں بلکہ عوامی بنیادی ڈھانچے پر بھی واضح نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں 13 اسکولوں، 34 مساجد، 13 دینی مدارس اور 3 صحت کے مراکز کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ دیگر عوامی خدمات کے نقصانات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 256 دکانیں، 42 گاڑیاں اور 661 مویشی، جو مقامی آبادی کے اہم آمدنی کے ذرائع تھے، ان حملوں میں ضائع ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی مقدار کو اجاگر کیا گیا ہے؛ اس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے اس وقت کے دوران افغانستان کی حدود میں کل 14,973 راکٹ، مارٹر اور توپ کے گولے داغے۔ یہ حملے کنر، ننگرہار، پکتيا، پکتیکا، خوست، لغمان، کابل، اور نورستان کے صوبوں کو نشانہ بناتے رہے، جس سے افغانستان کی قومی خودمختاری کے لیے سنجیدہ چیلنجز پیدا ہوئے۔
ایسی درست اعداد و شمار اور شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنانے کے سنگین الزامات کے نتیجے میں پاکستانی سیاسی اور فوجی حکام نے ابھی تک اس رپورٹ کا سرکاری جواب نہیں دیا ہے۔ اس صورتحال کے جاری رہنے اور مخالف طرف سے جوابدہی کی کمی نے کابل اور اسلام آباد کے مابین سرحدی کشیدگی میں اضافے اور مزید خراب ہوتے ہوئے سفارتی تعلقات کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔