حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : جمعه, 7 آگوست , 2026 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان میں داعش-کے کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر عالمی تعاون کی ضرورت

اقوام متحدہ میں امریکا کی نائب مستقل نمائندہ نے افغانستان کی عدم استحکام کے تناظر میں ISIS-K کی سرگرمیوں کے بڑھنے کے بارے میں خبردار کیا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


ISIS-K کی موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھانا

ایک حالیہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں، ٹامی بروس، اقوام متحدہ میں امریکا کی نائب مستقل نمائندہ، نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دہشت گرد گروہ ISIS-K افغانستان کی عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروہ ملک کی موجودہ صورتحال کے جواب میں اپنی سرگرمیوں کی تشخیص اور بہتری کر رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف لڑنا امریکا کی اولین ترجیح

بروس نے دوہرایا کہ ISIS اور القاعدہ کے خلاف لڑنا ریاستہائے متحدہ کا ایک اہم اسٹریٹجک ہدف ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی کمیونٹی کو دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان گروہوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

جدید ٹیکنالوجیوں اور نئے دہشت گردی کی حکمت عملی

اس امریکی عہدیدار نے دہشت گرد تنظیموں کی سوچ میں تبدیلی کے بارے میں بھی بات کی، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ نئے ٹیکنالوجیوں مثلاً مصنوعی ذہانت، ڈرونز، اور کرپٹو کرنسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لئے ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون کی ضرورت ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کی 25 ویں سالگرہ کا جائزہ

جیسے جیسے گیارہ ستمبر کے حملوں کی 25 ویں سالگرہ قریب آ رہی ہے، بروس نے ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی توجہ برقرار رکھیں اور موجودہ عدم استحکام کا فائدہ اٹھانے سے گریز کریں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں