اقوام متحدہ میں امریکا کی نائب مستقل نمائندہ نے افغانستان کی عدم استحکام کے تناظر میں ISIS-K کی سرگرمیوں کے بڑھنے کے بارے میں خبردار کیا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک حالیہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں، ٹامی بروس، اقوام متحدہ میں امریکا کی نائب مستقل نمائندہ، نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دہشت گرد گروہ ISIS-K افغانستان کی عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروہ ملک کی موجودہ صورتحال کے جواب میں اپنی سرگرمیوں کی تشخیص اور بہتری کر رہا ہے۔
بروس نے دوہرایا کہ ISIS اور القاعدہ کے خلاف لڑنا ریاستہائے متحدہ کا ایک اہم اسٹریٹجک ہدف ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی کمیونٹی کو دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان گروہوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
اس امریکی عہدیدار نے دہشت گرد تنظیموں کی سوچ میں تبدیلی کے بارے میں بھی بات کی، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ نئے ٹیکنالوجیوں مثلاً مصنوعی ذہانت، ڈرونز، اور کرپٹو کرنسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لئے ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون کی ضرورت ہے۔
جیسے جیسے گیارہ ستمبر کے حملوں کی 25 ویں سالگرہ قریب آ رہی ہے، بروس نے ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی توجہ برقرار رکھیں اور موجودہ عدم استحکام کا فائدہ اٹھانے سے گریز کریں۔