اسلامی پارٹی کے رہنما کے بیٹے، حبیب حکیمیار نے طالبان کے نئے وزیر مواصلات کی پیشہ ورانہ قابلیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نئے وزیر نے اپنی “آن لائن آئی ٹی ڈاکٹریٹ” مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی ہے جبکہ انہوں نے مختلف صوبوں میں فوجی عہدوں اور حکومتوں پر بھی فرائض انجام دیے۔
نجیب اللہ حقانی کی بطور وزیر مواصلات اور معلوماتی ٹیکنالوجی تقرری نے حبیب حکیمیار کی جانب سے شدید اور طنزیہ ردعمل کو جنم دیا ہے۔ حکیمیار اس حکومتی اہلکار کی مہارت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ حقانی نے آکسفورڈ سے “آن لائن آئی ٹی ڈاکٹریٹ” اس دوران حاصل کی جب وہ فوجی آپریشنز میں مصروف تھے اور مختلف صوبوں میں گورنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ دعویٰ حقانی کی تعلیمی محدودیتوں اور فوجی پس منظر کی روشنی میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
نقادوں کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں شامل ہونے اور دنیا کی سخت ترین یونیورسٹیوں میں مطالعہ کرنے کا تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں شفافیت کی کمی ہے۔ یہ تنازعہ افغانستان کی حکومت کی وزارتوں میں “سیاسی وفاداری” کو “اہلیت” پر ترجیح دینے کے بارے میں بحث و مباحثے کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر موزوں افراد کو تکنیکی وزارتیں سنبھالنے کی ذمہ داری دینا ملک کی ٹیلی کمیونیکیشنز اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔