پنجشیر صوبے کی رپورٹس کے مطابق، یہ علاقہ اپنے رہائشیوں کے لیے ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے، کیونکہ سخت سیکیورٹی کے ماحول نے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے مکمل طور پر محروم کر دیا ہے۔ حالیہ اطلاعات مقامی فضاء کو مقامی لوگوں کے لیے بتدریج خطرناک ظاہر کرتی ہیں۔
اس پہاڑی صوبے میں موجودہ صورتحال میں طالبان فورسز نے گھروں میں نجی زندگی کی خلاف ورزی کی ہے، جہاں شہریوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں یا سڑکوں پر غیر رسمی گفتگو بھی جرم سمجھی جاتی ہے۔ اس نے لوگوں کی روزمرہ زندگیوں پر خوف اور عدم اعتماد کا ایک ماحول پیدا کر دیا ہے۔
میڈیا کی سخت سنسرشپ نافذ کرنے اور خبروں کے لیک ہونے کی روک تھام میں طالبان نے پنجشیر میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسی کے ساتھ، ایک جاری اقتصادی دباؤ کے درمیان، وہ چرواہوں اور مویشی مالکان کو پہاڑوں کی طرف اپنے جانور لے جانے سے منع کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ بے قاعدہ گرفتاریاں، سڑکوں پر نامعلوم لاشوں کی دریافت، اور اقتصادی چکر کی معذوری محض سیکیورٹی اقدامات سے آگے بڑھ کر ہیں۔ بلکہ یہ ایک منظم منصوبے کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا مقصد اس صوبے کے رہائشیوں کے لیے زندگی کے حالات کو ناقابل برداشت بنا کر “خاموش زبردستی ہجرت” کے عمل کی تشکیل کرنا ہے۔